" اسلامی سال پر مبارک کا رحجان "
مبارک خوشی پر اظہار کی رسم ہے . مگر اسلام کے ساتھ تو عجیب تاریخ اسی مہینے میں رقم ہوئی . جسے قطعی خوشی کے اظہار کیلئے استعمال نہیں کیا جاسکتا . جس رسول کا ہم کلمہ پڑھتے ہیں , جس رسول کے وسیلے سے ہم اللہ کی وحدانیت سے آشناء ہوئے , جس رسول نے ہمارے لئے ایمان کی شمع روشن کی . اسی رسول کی آل پر ظلم و بربریت کے پہاڑ اسی مہینے میں ٹوٹے . بچے , نوجوان اور عمر رسیدہ سب کے سب خون میں نہلا دئے گئے . رسول کی آغوش میں پلنے والے پھول اسی ماہ میں گھوڑوں کی ٹاپوں تلے روندے گئے . عورتوں کے ہاتھوں میں رسیاں باندھ کر تماشا بنایا گیا ادی ماہ میں . کیا وہ سب بھلانا ممکن ہے . کیا نئے سال کی خوشی اہم ہے یا اس ظلم پر دکھ کرنا اہم ہے . نئے سال کی خوشی کا اہتمام طاغوت کی تاریخ ہے , اسلام میں کب اور کس دور میں یہ مبارک باد دینے کا رواج تھا . ابھی چند سال پہلے تک ایسی کوئی رسم نہیں تھی . مسالک کی جنگ اپنی جگہ , آل رسول کی محبت سے کسے مفر ہے . کون انکار کر سکتا ہے کہ آل رسول کا دکھ ہمارا دکھ نہیں .
یہ خوشی تو یزید کی خوشی تھی کہ اس نے اوائل سال پہ آل رسول کا گھر اجاڑنے کی خواہش پوری کر لی .
ہمیں یقینی طور پر نئی روایت کی بنیاد رکھنے سے پہلے سوچنا چاہئے . رسول کی آل کا دکھ , رسول کا دکھ ہے .
اگر اس نئی رسم کے پیچھے , یہ سوچ کار فرما ہے کہ اسطرح غم حسین بھول جائے گا . تو جس دل میں یہ غم بس چکا ہے , وہ قائم رہے گا . اسکے لئے کسی مسلک سے وابستگی ضروری نہیں . یہ تعلق کا معاملہ ہے , جس کو رسول سے تعلق ہوگا , اسے آل رسول سے تعلق رہے گا .
ہمیں اسطرف سے قطعی غافل ہو کر اس نئی رسم کو پروان نہیں چڑھانا چاہیئے .
ازاد ھاشمی
Monday, 25 September 2017
اسلامی سال پر مبارک کا رحجان
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
No comments:
Post a Comment