" اسمبلیوں کے پا رسا "
ایک دوست نے یاد دہانی فرمائی , کہ اسمبلیوں کے ممبران مراعات کی مد میں کروڑوں روپے اڑا رہے ہیں - جس میں ماہانہ تنخواہ , دفتر کے اخراجات , مفت ہوائی ٹکٹ , فون بل , بجلی کے بل , ریلوے کے ان گنت سفر , اجلاسوں کے دوران خورد و نوش کا الاونس وغیرہ وغیرہ ,ایک محتاط اندازے کے مطابق یہ رقم ہر ممبر کیلیے سالانہ کروڑوں میں پہنچ جاتی ہے - سوال یہ ہے کہ لوٹ مار کا یہ سلسلہ صرف چند مخصوص بدنام ممبران تک محدود ہے - یا اسمبلیوں بیٹھے اس گنگا میں وہ بھی ہاتھ دھو رہے ہیں کہ نہیں , جن کی پارسائی کے چرچے ہیں - اگر تو سب شامل ہیں تو پھر مزید کیا سوچنا باقی ہے -
ہم خود , میڈیا کے ڈھول بجانے والے , دانش وری کے نا خدا , وطن کی محبت کے بیمار محافظ , قانون کی کتابوں سے اٹے ہوے دماغ , حق سچ پہ قربان ہونے والے ملا اور سفید بے داغ چادروں میں لپٹی ہوئی مذہبی , سیاسی جماعتیں , کیوں گونگی ہیں - ان سے کیوں نہیں پوچھتے کہ محترم وہ کونسی قانون سازی کی ہے , جسکی اتنی بھاری فیس تھی - قانون انگریز لکھ گیا , اور کالے کوٹ والوں نے از بر کر لیا - مراعات کو دستور تم نے بنا دیا اور مسلسل چونا لگا رہے ہو - اب بند کرو یہ ڈرامہ - یہ ہے وہ اقدام جس سے جمہوریت بیمار ہو جایئگی - یہ نہ قاضی کو پسند نہ وطن کے داروغے کو کیونکہ یہ دیوی ایمان سے , جان سے , اولاد سے , وطن سے بھی زیادہ عزیز ہے -
یہ آواز اسمبلی کے ہر پارسا کی بھی آواز ہے اور ہر رند کا علان بھی کہ جمہوریت کو بچانا ہے -
شکریہ
آزاد ہاشمی
ایک دوست نے یاد دہانی فرمائی , کہ اسمبلیوں کے ممبران مراعات کی مد میں کروڑوں روپے اڑا رہے ہیں - جس میں ماہانہ تنخواہ , دفتر کے اخراجات , مفت ہوائی ٹکٹ , فون بل , بجلی کے بل , ریلوے کے ان گنت سفر , اجلاسوں کے دوران خورد و نوش کا الاونس وغیرہ وغیرہ ,ایک محتاط اندازے کے مطابق یہ رقم ہر ممبر کیلیے سالانہ کروڑوں میں پہنچ جاتی ہے - سوال یہ ہے کہ لوٹ مار کا یہ سلسلہ صرف چند مخصوص بدنام ممبران تک محدود ہے - یا اسمبلیوں بیٹھے اس گنگا میں وہ بھی ہاتھ دھو رہے ہیں کہ نہیں , جن کی پارسائی کے چرچے ہیں - اگر تو سب شامل ہیں تو پھر مزید کیا سوچنا باقی ہے -
ہم خود , میڈیا کے ڈھول بجانے والے , دانش وری کے نا خدا , وطن کی محبت کے بیمار محافظ , قانون کی کتابوں سے اٹے ہوے دماغ , حق سچ پہ قربان ہونے والے ملا اور سفید بے داغ چادروں میں لپٹی ہوئی مذہبی , سیاسی جماعتیں , کیوں گونگی ہیں - ان سے کیوں نہیں پوچھتے کہ محترم وہ کونسی قانون سازی کی ہے , جسکی اتنی بھاری فیس تھی - قانون انگریز لکھ گیا , اور کالے کوٹ والوں نے از بر کر لیا - مراعات کو دستور تم نے بنا دیا اور مسلسل چونا لگا رہے ہو - اب بند کرو یہ ڈرامہ - یہ ہے وہ اقدام جس سے جمہوریت بیمار ہو جایئگی - یہ نہ قاضی کو پسند نہ وطن کے داروغے کو کیونکہ یہ دیوی ایمان سے , جان سے , اولاد سے , وطن سے بھی زیادہ عزیز ہے -
یہ آواز اسمبلی کے ہر پارسا کی بھی آواز ہے اور ہر رند کا علان بھی کہ جمہوریت کو بچانا ہے -
شکریہ
آزاد ہاشمی
No comments:
Post a Comment