Sunday, 18 June 2017

فرانس کا درد رکھنے والے

ہمارے ایک محترم دوست کی تحریر پڑھ کر احساس ہوا کہ درد کی گہرائی کیا ہوتی ہے - موصوف لکھتے ہیں کہ آج انتظار کر رہا ہوں کہ فیس بک پہ فرانس کا درد رکھنے والے چار سدہ کے سانحہ پر بھی پاکستانی جھنڈے کی ڈی پی لگائیں گے - میڈیا پہ دانشور بھی چلائیں گے , این جی او والے بھی شور کریں گے - دنیا کو امن کا سبق سکھانے والے بھی واویلا کریں گے - محترم کا انتظار شائد انتظار ہی رہے - ہم ذہنی غلام ہیں اور غلاموں کے کوئی حقوق نہیں ہوتے -
ہم نے دوسروں کی لڑائی اپنے آنگنوں میں بلا لی ہے - ہم نے اپنی جانوں کو سیاسی مداریوں کی محبت میں بیچ ڈالا ہے - ہمیں شہادت کے نام پہ موت خرید دی ہے - ہم نے قبروں کے شہر بسا ڈالے ہیں - یہ مکار مغرب ہمیں قربانیوں پہ شاباش دیتا ہے تو ہم پھولے نہیں سماتے - دنیا میں جہاں بھی آگ جلتی ہے , ہمیں جھونک دیا جاتا ہے - اور ہم سمجھتے ہیں کہ یہ اعزاز ہماری بہادری کی بدولت ہے - حالانکہ یہ خدمت ہماری حماقت کی وجہ سے لی جاتی ہے -
یہ خود کش کون ہیں , انکا مذھب کیا ہے , یہ کہاں سے آتے ہیں , انکو روکنا کیوں ممکن نہیں -
کیا یہ سوال ہمارے اداروں کی قابلیت پر ایک سوالیہ نشان نہیں -
ہے کوئی جو آج ان گھروں کے زخموں کا مداوا کر سکے - ہے کوئی جو روتی ہوئی ماں کو شہادت کا مژدہ سنا کر آنسو روک لے -
کتنے گھر اجڑ گئے , کتنی سہاگنیں بیوہ ہو گئیں , کتنے بچے یتیم ہو گئے - ہر بار تسلی , ہر بار اشک شوئی - نہ کبھی اسمبلیوں میں آواز اٹھی , نہ کبھی حفاظتی ادارے متحرک ہوۓ , نہ کوئی دانشور بولا , نہ میڈیا نے شور مچایا , نہ سیاسی پنڈت آگے بڑھے -
خدا را ! اب لوگوں کو بہادری کی گولی دے کر موت کی نیند سلانا چھوڑ دو - بیانات اور بھڑکیں مارنا بند کرو - اگر کچھ کرنا ہے تو نتیجہ آنا چاہیے -
آزاد ہاشمی

No comments:

Post a Comment