Sunday, 18 June 2017

آل نبی کی شان

سب مانتے ہیں کہ آل نبی کی شان قلم کے احاطہ سے باہر ہے - سوچ اور فکر کتنی بھی بلند کیوں نہ ہو جاۓ , اس مقام تک نہیں پہنچ سکتی جس مقام پہ اہل بیت ہیں - نہ علی کے علم تک , نہ فاطمہ کی عبادت تک , نہ حسن کی استقامت تک , نہ حسین کی شہادت تک -
علمیت کے بعض دعویدار باور کرانے کی کوشش میں ہیں کہ مصائب کربلا بیان کرنے سے اہل بیت کی شان کم ہو جاتی ہے - محدود فکر یہ سمجھنے سے قاصر ہے کہ کربلا کی داستان تو ہے ہی جبر و استبداد اور صبر و رضا -
کون ہے جو علی اصغر کے گلے میں اٹکے ہوے تیر کو بھلا پایا ہے - کیسے چھپے گا فرات کے پانی پہ اشقیا کا قبضہ - کیا نام دو گے سجدے میں حسین کا سر کاٹنے کو - کیا کہو گے رسیوں میں جکڑی رسول کی اولاد کو -
چلو ! تم سناؤ کربلا کی داستان -
تم کہو کیا کیا ہوا کربلا میں - تم بتاؤ یزید کے دربار میں بہادر بی بی کیسے لائی گئی -
کہو جب کوفے کے بازار میں اہل بیت کا قافلہ داخل ہوا تو نواسہ رسول کا سر کہاں تھا -
ارے یہ کہانی تاریخ کی وہ کہانی ہے جس کی گواہی فلک بھی دے گا اور افلاک کا مالک بھی -
مت بھول زینب کی چادر کوئی عام چادر نہیں تھی - حسین کا سر کوئی عام سر نہیں تھا - عباس کے بازو کوئی عام بازو نہیں تھے - اے کاش تیرے دل میں بھی گداز ہوتا جو تیری آنکھوں میں چند آنسو اہل بیت کی محبت کے لے آتا -
آزاد ہاشمی

No comments:

Post a Comment