" آخر وہ کونسی قابلیت ہے "
ہمارے حکمران مراعات کے طور پر کروڑوں روپے لیتے ہیں - سوچتا ہوں آخر وہ کونسی سی قابلیت ہے , جس کی ملک کو اشد ضرورت ہے اور وہ صرف انہی کے پاس ہے -
آپ دیانتداری سے سوچیں کہ ان سیاسی لوگوں کو اگر بیرون ملک نوکری تلاش کرنی پڑے تو کتنے ہیں جن کو مینجر کی سیٹ کا اہل سمجھا جایئگا -
کیا یہ قوم کو جمہوریت کی طرف سے ملنے والی سزا نہیں -
کیا یہ الله کی نا راضگی کا نشان نہیں -
سمجھ نہیں آتا کہ ہم بحثیت قوم اتنے جاہل ہو گئے ہیں کہ ہم ووٹ دیتے وقت سوچتے ہی نہیں - کہ جن کے ہاتھوں میں ہم اپنا اور اپنی نسلوں کا مستقبل دے رہے ہیں , وہ کس قماش کے لوگ ہیں -
جمہوریت کے پجاریوں سے پوچھنا چاہوں گا , کہ اس دیوی نے آخر وہ کونسا چمتکار دکھایا پچھلے سارے عرصے میں -
کیا ایسے ہی لوگ ہمارے سروں پر نہیں بیٹھے رہے , جنہوں نے اپنے اپنے دور میں اقربا پروری کر کے پورے نظام پہ نا اہل لوگ بٹھا دیے - آج نہ عدل ہے نہ انصاف - کوئی فرد محفوظ نہیں - تھانے شرفا کیلیے عقوبت خانے اور غنڈوں کیلیے پناہیں بن چکے ہیں - قاضی عدل کی منڈی لگاے بیٹھے ہیں - کونسا ادارہ ہے جہاں انہی سیاسی خاندانوں کے لوگ حکمرانی نہیں کر رہے -
عقل کی اندھی قوم کیوں نہیں پوچھتی , کہ بھائی تم قوم کی خدمت کو اے تھے یہ مراعات کس لئے -
کیوں نہیں پوچھتی ان ممبران اسمبلی سے کہ وہ احتساب کی آواز کیوں نہیں اٹھاتے -
سب جانتے ہیں کہ سب کے سب ایک ہی تھالی کے بینگن ہیں - سب کے دو روپ ہیں , ایک اصلی دوسرا سیاسی -
خدا کے لئے جمہوریت کی دیوی کو پہچانو - پہلے ہی بہت دیر ہو چکی ہے -
شکریہ
آزاد ہاشمی
ہمارے حکمران مراعات کے طور پر کروڑوں روپے لیتے ہیں - سوچتا ہوں آخر وہ کونسی سی قابلیت ہے , جس کی ملک کو اشد ضرورت ہے اور وہ صرف انہی کے پاس ہے -
آپ دیانتداری سے سوچیں کہ ان سیاسی لوگوں کو اگر بیرون ملک نوکری تلاش کرنی پڑے تو کتنے ہیں جن کو مینجر کی سیٹ کا اہل سمجھا جایئگا -
کیا یہ قوم کو جمہوریت کی طرف سے ملنے والی سزا نہیں -
کیا یہ الله کی نا راضگی کا نشان نہیں -
سمجھ نہیں آتا کہ ہم بحثیت قوم اتنے جاہل ہو گئے ہیں کہ ہم ووٹ دیتے وقت سوچتے ہی نہیں - کہ جن کے ہاتھوں میں ہم اپنا اور اپنی نسلوں کا مستقبل دے رہے ہیں , وہ کس قماش کے لوگ ہیں -
جمہوریت کے پجاریوں سے پوچھنا چاہوں گا , کہ اس دیوی نے آخر وہ کونسا چمتکار دکھایا پچھلے سارے عرصے میں -
کیا ایسے ہی لوگ ہمارے سروں پر نہیں بیٹھے رہے , جنہوں نے اپنے اپنے دور میں اقربا پروری کر کے پورے نظام پہ نا اہل لوگ بٹھا دیے - آج نہ عدل ہے نہ انصاف - کوئی فرد محفوظ نہیں - تھانے شرفا کیلیے عقوبت خانے اور غنڈوں کیلیے پناہیں بن چکے ہیں - قاضی عدل کی منڈی لگاے بیٹھے ہیں - کونسا ادارہ ہے جہاں انہی سیاسی خاندانوں کے لوگ حکمرانی نہیں کر رہے -
عقل کی اندھی قوم کیوں نہیں پوچھتی , کہ بھائی تم قوم کی خدمت کو اے تھے یہ مراعات کس لئے -
کیوں نہیں پوچھتی ان ممبران اسمبلی سے کہ وہ احتساب کی آواز کیوں نہیں اٹھاتے -
سب جانتے ہیں کہ سب کے سب ایک ہی تھالی کے بینگن ہیں - سب کے دو روپ ہیں , ایک اصلی دوسرا سیاسی -
خدا کے لئے جمہوریت کی دیوی کو پہچانو - پہلے ہی بہت دیر ہو چکی ہے -
شکریہ
آزاد ہاشمی
No comments:
Post a Comment