" بلوچ , پٹھان اور مطالعہ پاکستان "
پاکستان کی درسی کتب میں بلوچ اور پٹھان کی جو شناخت لکھی گئی ہے . اس سازش کیلئے مذمت کے الفاظ کافی نہیں . لکھنے والا , اسے منظوری دینے والے اور اسے چھاپنے والا , سب کے سب قوم کے مجرم ہیں . نفاق کی اس گھناونی سازش کو بد ترین انجام تک پہنچانے کی ضرورت ہے . اگر لکھنے والا پنجابی ہے , مہاجر ہے یا سندھی تو وہ اپنی قوم سے غداری کا ارتکاب کر رہا ہے . پٹھان اور بلوچ بہادر قومیں ہیں , میری پختہ رائے ہے کہ پاکستان کی سلامتی میں ان دونوں قوموں کا قابل قدر حصہ ہے . بہادر شخص کبھی مکاری نہیں کرتا اور غداری کو اپنی ہتک سمجھتا ہے . بلوچ قوم نے جس صبر کا مظاہرہ کیا ہے وہ انکا اعزاز ہے . جس طرح انکے حقوق پامال کئے جاتے رہے , اگر کسی دوسری قوم کے کئے جاتے تو کب کی دھما چوکڑی ہو چکی ہوتی . ساری محرومیوں کے باوجود قوم سے پر خلوص رہنا , بلوچوں کی شان ہے . سرداروں کے مطیع ہونے کے باوجود قومی مفادات سے جڑے ہوئے ان لوگوں کے بارے میں جو زبان استعمال کی گئی ہے . اسے گدی سے کھینچ لینے کی ضرورت ہے . پٹھان اگر مخلص نہ ہوتے , عقل سے پیدل ہوتے تو افغانستان کی گود میں بیٹھے ہوتے . ساری قربانیوں کو جمع کر لیا جائے تو پٹھانوں نے زیادہ قربانیاں دیں . قوم کو ان دونوں بہادر قوموں کا ممنون ہونا چاہئے , نہ کہ ان کی تضحیک کے پہلو تلاش کئے جائیں . اور بچوں کے نصاب میں انکی کردار کشی کی جائے . تعلیم میں اگر یہ رحجان پیدا ہو گیا تو یہ نفاق کا ایسا ناسور ہو گا , جسکا علاج ممکن نہیں ہو گا . اس سازش کے مرتکب لوگوں کو عبرت کا نشان بنایا جانا چاہئے .
ازاد ھاشمی
Friday, 10 November 2017
بلوچ , پٹھان اور مطالعہ پاکستان
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
No comments:
Post a Comment