Friday, 10 November 2017

ہیجڑا پن

" ہیجڑا پن "
سوشل میڈیا پر ایک مظلوم بچی , بے بسی کے عالم میں الف ننگی کھڑی ہے . کسی جابر نے اسے کیوں اسقدر رسوا کیا . اس معصوم کا کیا گناہ تھا . یہ کہانی ایک طرف , اصل شرمناک رویہ اس معاشرے کی بے حسی کا ہے , جو سرعام برہنہ بچی کے اردگرد دائرہ بنائے کھڑے ہیں .
کیا ان سب تماش بینوں میں کوئی ایک ایسا نہیں تھا . جس کی اپنی بہن , بیٹی یا ماں ہو . کوئی ایک ایسا نہیں تھا جس نے ماں کی آغوش میں غیرت والا دودھ پیا ہو . کوئی بھی ایک ثابت کرنے کیلئے آگے نہیں بڑھا کہ وہ نطفہ حلال سے ہے .
اس شہر اور قصبے میں کوئی ایک زندہ شخص باقی نہیں کہ ان ظالموں کے سامنے کھڑا ہو جاتا . اگر سب ہیجڑا پن کے مریض ہیں تو کم از کم کوئی بے چاری پر اپنی چادر ہی ڈال دیتا . اس علاقے میں پولیس بھی ہو گی . کسی سیاستدان کا تو علاقہ ہو گا . کوئی تو مسجد ہو گی . کوئی تو نماز پڑھتا ہو گا . کیا سب کے سب بے حس ہیں . کیا کسی کو اللہ پر توکل نہیں . کیا کوئی ایک بھی نہیں جانتا کہ ہر فرعون کا انجام غرق ہونا ہوتا ہے .
صرف علاقے کا جابر فرعون اکیلا مجرم نہیں . سب تماشائی مجرم ہیں . باور کر لیں کہ کسی عبادت قبول نہیں , اللہ ظالموں کی گریہ زاری نہیں سنتا . سب کا انجام آگ ہے , آج یا کل . سب ہیجڑوں کیطرح بے نسل ہونگے . لکھ لو . توبہ کی قبولیت ظالموں کو نہیں ملا کرتی .
الف ننگی تم سب کی بہن تھی , تمہاری بیٹیوں سماں تھی بد نصیب .
ظالم کا ہاتھ روکا نہ جائے تو ایک روز ہر عزت تار تار کر دیتا ہے .
ازاد ھاشمی

No comments:

Post a Comment