Thursday, 11 October 2018

معاویہ کے بعد کیا ہوا (1)

معاویہ کے بعد کیا ہوا  (1)"
معاویہ نے اقتدار کیلئے ہر ممکن حربہ اختیار کیا کہ کسی طرح اقتدار اسکی نسل کے پاس رہے ۔ یہ وہ روایت تھی جس نے اسلام جیسے پرامن مذہب کے اندر خونریزی کا بیج بو دیا ۔ امام حسنؑ نے اس شرط پر معاویہ سے معاہدہ کر لیا تھا کہ وہ خلافت کیلئے اسلام کے مطابق طریقہ اختیار کرے گا مگر ایسا نہ ہوا ۔ امام حسنؑ کے فیصلے پر بہت سے اکابر صحابہ کو اعتراض تھا کہ معاویہ کو اسطرح کھلی چھوٹ نہ دی جائے ۔ جس پر  حضرت حسنؑ نے فرمایا "اگر خلافت میرا حق تھا تو یہ میں نے ان کو بخش دیا اور اگر یہ ان کا حق تھا تو یہ ان تک پہنچ گیا۔"
جب یزید اقتدار پر بیٹھ گیا ، تو یزید کے سامنے چند حدف تھے ، جن کو پورا کرنا ضروری سمجھ رہا تھا ۔ اسے خطرہ تھا کہ کچھ اکابرین اسکی خلافت کی مخالفت کریں گے ۔ ان میں کچھ مصلحت کے ساتھ رستے سے ہٹائے جا سکتے تھے اور کچھ کو زبردستی قابو کرنا ہی مناسب سمجھتا تھا ۔ امام حسینؑ وہ رکاوٹ تھی ، جو یزید کیلئے درد سر بنی ہوئی تھی ، حالانکہ امامؑ نے یزید کے اقتدار پر بیٹھ جانے پر کوئی تحریک شروع نہیں کی تھی اور نہ رائے عامہ ہموار کرنے کی کوئی مثال موجود تھی  - یزید کے زیر تسلط علاقوں سے امام حسینؑ سے مدد کی درخواست ، بیعت کے لئے خطوط ، اور پھر اہل کوفہ کا خا موش ہو کر آل رسولؑ پر مظالم کا تماشا کرنا ۔ یزید ہی کی ہوس رانی کی سازش کا ایک رخ تھا ۔ مورخ جو ہمیشہ وہی لکھتے رہے جو بنو امیہ کی منشاء ہوتی تھی ۔ مورخ نے یہی لکھا کہ اہل کوفہ نے بیوفائی کی ۔ اہل کوفہ تو پوری طرح سے معاویہ کے مطیع تھے ، کیونکہ ان میں ایمان کا فقدان بھی تھا ، اخلاقی جرات سے بھی قاصر تھے اور بزدل بھی تھے ۔ سوائے چند کے اکثریت اسی طرح کی تھی کہ ان پر اعتماد کرنا ہی مناسب نہیں تھا۔ حقائق بتاتے ہیں کہ امام حسینؑ نے اعتماد نہیں کیا ، بلکہ اپنے بھائی مسلم بن عقیلؓ کو حالات سے اگاہی کیلئے بھیجا ۔ مسلم بن عقیل نے کیا لکھا اور حسینؑ کو کیا پیغام ملا ، یہی وہ سازش تھی جس نے آمادہ سفر کیا۔ امامت کا تقاضا بھی تھا اور بحیثیت امامؑ ذمہ داری بھی تھی کہ جب بھی امت دین کی احیاء کیلئے بلائے تو امامؑ کو ہر حال میں جانا تھا ۔ یہ سب ایک سازش کے تحت ہو رہا تھا ۔
جب یزید نے مدینہ سے اتنی دور اپنا جال پھیلا کر امامؑ کو گھیر لیا اور یقین ہو گیا کہ اب اہل مدینہ اور آل رسولؐ کے ماننے والے مدد کو نہیں پہنچ سکیں گے تو اپنے وار سے آل رسولؑ کو کاٹ ڈالا ۔
(جاری ہے ۔۔۔۔۔ )
آزاد ھاشمی
١١ اکتوبر ٢٠١٨

No comments:

Post a Comment