Saturday, 29 September 2018

بنیادی ضروریات کی ذمہ داری

" بنیادی ضروریات کی ذمہ داری"
دنیا میں بیشمار نظام لائے گئے ، جن کا مقصد ہر شہری کے بنیادی حقوق کو پورا کرنا تھا ۔ ہر شہری کے حقوق کو پورا کرنے کا یہ قطعی مطلب نہیں کہ ایک طبقے کو سہولت کیلئے دوسرے طبقے کا استحصال کیا جائے ۔ ایسا نظام جبر کی بنیاد فراہم کرتا ہے ۔  ہم  جن نظریات سے متاثر ہوئے ، وہ سب استحصال کی تعلیم ہیں ، جیسے کیمونزم ، سوشلزم ، فسطائیت ، بادشاہت اور جمہوریت ۔ جمہوریت کو نظام نہیں کہا جا سکتا ، کیونکہ اسکی بنیاد صرف ایک مخصوص طبقے کو حکمرانی تک پہنچانا ہے جسے اشرافیہ کہا جاتا ہے اور دوسرے کو خواب دکھانا ہے کہ حکمرانی کا حق انہیں مل چکا ہے ، جنہیں عوام کہتے ہیں ۔ اب حکمران طبقوں کی بنیادی ضروریات کچھ اور ہوتی ہیں اور محکوم طبقوں کی بنیادی ضروریات کچھ اور ۔ صرف اسلام ایسا نظام ہے جس میں ایک توازن ہے ۔ حکومت ذمہ دار ہے کہ
زندگی کی بنیادی ضروریات کی فراہمی یقینی بنائے ۔  رسول صلی اللہ عليہ وسلم اللہ کا ارشاد پاک ہے :
"  انسان کے لیے اس سے بہتر حق کوئی نہیں ہو سکتا کہ اس کے پاس رہنے کے لیے ایک مکان ہو اور کچھ کپڑا جس سے وہ اپنی ستر کو چھپا سکے اور کچھ روٹی اور کچھ پا نی۔ "
یہ وہ ضروریات ہیں جو ہر شہری کے زندہ رہنے کی بنیاد ہے ۔ اب ان تمام کی ذمہ داری کس پر ہے ؟
آپؐ نے مزید فرمایا کہ،
"حکومت ہر اس شخص کی نگہبان ہے جس کا کو ئی نگہبان نہیں۔ "
اللہ کے نبیؐ کے اس فرمان کی حکمت کا سوچیں کہ اس اصول کے مطابق ہر یتیم ، ہر عمر رسیدہ ، ہر معذور خود بخود بھیک کی لعنت سے بچ جاتا ہے ۔
باب العلم نے فرمایاکہ
"اللہ نے دولت مندوں  اور حکومت  پر یہ فرض کیا ہے کہ وہ غریبوں کی بنیادی ضروریات کو مہیا کریں۔ اگر یہ بھوکے یابرہنہ یا کسی دوسری معاشی تنگ دستی میں مبتلا ہیں تو یہ صرف اس لیے کہ دولت مندوں اور  حکومت  اپنا فریضہ پورا نہیں کر رہا ہے۔ اس لیے قیاُمت کے دن اللہ ان سے اس بارے میں پوچھے گا اور اسی کی مطابق سزا دے گا۔ "
باور رہنا چاہئے کہ خیرات کرنا ، صرف صوابدیدی اختیار نہیں ، بلکہ دولتمندوں کے فرائض کا حصہ ہے ۔
آزاد ہاشمی
٢٩ ستمبر ٢٠١٨

No comments:

Post a Comment