" فوبیا یا شعور "
خدا کی پناہ ۔ کچھ سیاست کے مفکر ، لکھو گندم تو پڑھتے ہیں جو اور جواب دیتے ہیں باجرہ ۔
تحریر کا مطلب الفاظ کے مطابق نہیں اپنے تخیل کے مطابق نکال لیتے ہیں ۔ پھر ایک نے اپنی رائے لکھی ، دوسرا تحریر پڑھے بغیر اپنی رائے دے دیتا ہے ۔ لکھنے والا اکثر پریشان ہوتا ہے کہ میں نے تو کچھ اور لکھا تھا ۔ یہ مطلب کیسے نکل آیا ۔ میرے ساتھ اکثر ایسا ہوا ہے ۔ میں نے لکھا کہ اسلام کے نظام کو نافذ کرنے کی کوشش ہونی چاہئیے ۔ ایک صاحب کمنٹ لکھتے ہیں کہ اسلام تو نافذ نہیں ہوتا ۔ اسلام تو پہلے سے نافذ ہے ۔ اب بتائیں کہ کیا کہا جائے ۔ پھر بے تکی بحث ، ایک لکھنے والے بیسیوں لوگوں کو جواب لکھنے بیٹھ جائے گا تو وہ تو گیا کام سے ۔ اصل میں یہ حوصلہ شکنی کی مذموم کوشش ہوتی ہے کہ کوئی سچ لکھنے کی جسارت ہی نہ کرے ۔ ایسی بیشمار مثالیں ہیں ۔
صورت حال یہ ہے کہ سیاسی کارکن اپنے اپنے لیڈر کے فوبیا میں مبتلا ہو گئے ہیں ۔ عمران خان کے بارے میں کچھ بول دو ، بس آپ نے گناہ کر دیا ۔ آپ یقینی طور پر جماعت اسلامی یا نواز شریف کے بندے ہیں ۔ اگر نواز شریف کے بارے میں بول دیا تو آپ عمران کے پرستار ہیں ، اگر سراج الحق کے بارے میں کچھ کہہ بیٹھے تو آپ کا تعلق پیپلز پارٹی سے ہو گا ۔ گویا آپ کسی بھی لیڈر کے بارے میں اختیار ہی نہیں رکھتے کہ اپنی رائے ظاہر کر سکیں ۔ بس میراثی بنے رہیں اور خوشامد کرتے ہیں ۔
مجبوری یہ ہے کہ ہر کوئی منافقت نہیں کر سکتا ۔ کچھ لوگوں کو سچ بولنے کی بیماری ہوتی ہے ۔ کچھ لوگ برائی کے سامنے کھڑا ہونے کو کار خیر مانتے ہیں ۔ اور میرے جیسے بیشمار اس خبط میں مبتلا ہیں کہ جو بھی لکھنا ہے حق لکھنا ہے ۔
کچھ سیاسی کارکنوں نے سمجھ رکھا ہے کہ انہیں سیاسی شعور آگیا ہے ، اسی لئے وہ اپنے قائد کی تقلید کرتے ہیں اور درست کرتے ہیں ۔ مگر شعور سچ اور جھوٹ میں امتیاز کرنے کی اہلیت کا نام ہے ۔ بغیر سوچے سمجھے اور حق و باطل کی شناخت کے تقلید کو شعور نہیں " فوبیا " کہنا زیادہ مناسب ہے ۔
آزاد ھاشمی
٣٠ اپریل ٢٠١٨
Wednesday, 2 May 2018
فوبیا یا شعور
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
No comments:
Post a Comment