Friday, 4 May 2018

اہم ترین سوال۔

"اہم ترین سوال"
کسی نے سوشل میڈیا پہ سوال پوچھا ہے ۔
"کیا میاں نواز شریف، عمران خان یا بلاول کی محبت آخرت میں ہمارے کسی کام آئے گی؟؟؟ "
پوچھنے والے کے ذہن میں ایک طنز بھی ہو سکتی ہے اور سنجیدگی بھی ۔ پڑھنے والے اسے فضول سوال بھی کہیں گے اور کچھ اس پر سنجیدگی کا مظاہرہ بھی کریں گے ۔ یہ سب ایک سوچ کا محور ہوتا ہے ، جدھر گھوم جائے ۔ مگر حقیقت کے قریب سوال کو اپنے ایمان کے ترازو پر تولا جائے تو سوال محض ظرافت نہیں بلکہ لمحہ فکر ہے ۔ ہم نے سیاست اور شخصیت پرستی کی حد کر دی ہے ۔ برائی کی تقلید کبھی فلاح کیطرف نہیں جاتی ۔ اکثریت نے سیاسی لوگوں کو اپنا رہبر و ہادی مان لیا ہے ۔ جبکہ یہ تمام سیاسی لوگ اقتدار کی کرسی پر براجمان ہونا چاہتے ہیں ۔ اور اقتدار کی ہوس کوئی قابل قدر خصلت نہیں ۔ وہ شخص جو خود کو دوسروں سے افضل سمجھتا ہے ، اور سمجھتا ہے کہ اقتدار پر براجمان ہونا اسکا حق ہے ، کسی قدر خود پرستی کا مریض ہے ۔ خدمت کا جذبہ الگ عمل اور الگ سوچ ہے ۔ یہی خود پرستی وہ برائی ہے, جس نے اسلام کے نظام کو بہت بری زک پہنچائی ہے ۔ اسی خود پرستی نے مسلمانوں کو آپس میں لڑا دیا ۔ نواز شریف ، عمران خان ، سراج الحق ، مولانا فضل الرحمن ، بلاول بھٹو اور دیگر سیاسی لوگ ایک ہی گیند کے پیچھے بھاگ رہے ہیں ۔ یہ حقیقت ہے کہ ہم سے جو سوال کیا جائے گا ، یہی پوچھا جائے گا کہ کیا ہم اللہ   پر ایمان لائے ؟ اگر لایا تو ہم نے ایمان کے تقاضے پورے کئے ؟ ہم نے وہ سنا جو رسولؐ نے کہا اگر سنا تو کیا اطاعت کی ؟  ہم تو سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر ان سیاسی لیڈروں کے پیچھے لگے ہوئے ہیں ۔ وہ کہتے ہیں ناچو تو ہم ناچنے لگتے ہیں ۔ وہ کہتے کہ دوسروں کی پگڑیاں اچھالو تو ہم اچھالتے ہیں ۔ وہ کہتے ہیں کہ ہم تمہاری تقدیر بدل دیں گے تو ہم یقین کرتے ہیں ۔ ہم نےاپنے فرائض چھوڑ کر انکے جلسے کامیاب کرانے کا قصد کر لیا ہے ۔
آزاد ھاشمی
٥ مئی ٢٠١٨

No comments:

Post a Comment