Wednesday, 2 May 2018

ہمارے مسائل اور منشور

" ہمارے مسائل اور منشور  "
کتنے سیاستدان جانتے ہیں کہ ہمارے مسائل کیا ہیں اور ان کا حل کیا ہے ؟
جو سیاستدان یہ نہیں جانتا کہ ایک ملک کے مسائل کیا ہوتے ہیں اور اقتدار کی کرسی پر بیٹھنے کے جتن کر رہا ہے ، وہ نہ تو قوم کا خیر خواہ ہے نہ وطن کا ۔ ہم سب نے مل کر اس ملک کو اس نہج پہ پہنچا دیا ہے کہ ہماری نسلیں گروی ہو گئی ہیں ۔ جس نے بھی ناچ تماشا کیا اسی کو کرسی پہ بٹھا دیا ۔ ہمارے سیاسی نعرے بازوں کی کتنی تعداد ایسی ہے جو خوشحال ہے ۔ جو تعلیم یافتہ ہے ۔ اور جن کو یہ پتہ ہے کہ منشور کیا ہوتا ہے ۔ کسی بھی موضوع پر بے ہنگم بولتے جانا سیاسی شعور نہیں ہوتا ۔ ہر کوئی سمجھنے لگ گیا ہے کہ اسے سیاسی شعور مل گیا ہے ۔
ہمارے ملک کے مسائل کیا ہیں ۔
سب سے پہلا مسلہ ہے کہ ہم معاشی بد حالی کی سطح پر کھڑے ہیں ۔ جب تک معیشت درست نہیں ہو جاتی ، صحت ، تعلیم ، روز گار ، ترقیاتی پروگرام وغیرہ وغیرہ سب جھوٹ ہے ۔ منشور کا پہلا مرحلہ ہی معیشت کی بحالی ہے ۔ اسے پورا کرنے کیلئے کیا پلان ہے ، یہ وہ پہلی کڑی ہے ،جسے منشور کا پہلا نکتہ ہونا چاہئیے ۔ اگر کوئی سیاستدان یہ کہے کہ وہ ٹیکس سے پورا کرے گا تو وہ معاشی پلان میں ناکام ہے ۔ جب بھوک ناچ رہی ہوگی تو ٹیکس کون دے گا ۔
ہمارا دوسرا گھمبیر مسلہ ، خارجہ امور ہیں ، جس میں ہم بری طرح ناکام ہیں ۔ وقار کے ساتھ بین الاقوامی برادری میں رہنا ضروری ہے ، تاکہ تجارت کو فروغ ملے ، بیرونی سرمایہ ملک میں آئے ۔ سرمایہ کاری بھی اسی صورت میں ہو گی کہ ہمارے خارجہ تعلقات مناسب حد تک اچھے ہوں ۔
تیسرا مرحلہ داخلی امور ہیں  ۔ ہمارے داخلی امور اسقدر دگرگوں ہیں کہ لوگ پاکستان کا نام سن کر خوف محسوس کرتے ہیں ۔ بد امنی عروج پر ہے ، قومی یکجہتی کا تصور مر چکا ہے ، ہر شخص اپنی مرضی کا مالک ہے ۔ اسے کیسے واپس لانا ہے انتہائی اہم سوال ہے ۔
چوتھا اہم مرحلہ ہے ہمارے وسائل کا بہتر اور سود مند استعمال ۔ زراعت ، معدنی ذخائیر ، صنعت بنیادی ذرائع ہیں ، جو کسی قوم کی معیشت کا سہارا ہوتے ہیں ۔ یہ سب ہمارے پاس ہیں مگر ناقص کنٹرول کیوجہ سے ہم استفادہ نہیں کر پا رہے ۔ اسے کیسے متحرک کرنا ہے ۔
ایک مرحلہ ، لوگوں کے بنیادی حقوق کا منصفانہ استعمال ہے ۔ ہمارے ملک کی ابتری میں اور سیاسی دھما چوکڑی میں بنیادی حقوق اصل سوال ہے ۔ مہاجر کو تحفظات ہیں ، بلوچ بھی شاکی ہیں ، سندھی بھی خوش نہیں ، پٹھان بھی پریشان ہیں ، پنجابی بھی پورے سکون میں نہیں ۔ یہ ساری تفریق ملک کے اندر کس نے پھیلائی اور کیسے دور ہو گی ۔ ہمارے تمام ادارے کارکردگی کے اہداف سے بہت نیچے ہیں ۔ صحت ، تعلیم اور دیگر ترقیاتی بنیادیں حاصل کرنے کیلئے ہمیں اولین معاملات کو حل کرنا ہو گا ۔
میں حیران ہوتا ہوں ، جب کوئی سیاستدان بڑے بڑے جلسوں میں کہتا ہے ، آپ کو بجلی ملے گی ، سڑکیں ملیں گے ، تعلیم ملے گی ، علاج ملے گا ، آپکے شہروں میں پارک بنائیں گے ، نالیاں پکی کریں گے ۔ اور اس پر کارکن نعرے لگاتے ہیں ۔ اس لیڈر کو بتانا چاہئیے کہ صاحب ہم ان سب چیزوں کیلئے ٹیکس دیتے ہیں ۔ یہ ہمارا حق ہے ۔ آپکی مہربانی نہیں ۔ اس سے کہو کہ تم اس خدمت کی تنخواہ لو گے ، مراعات لوگے ، موجیں اڑاو گے ۔ بس کر سکو تو وطن کو خوشحالی کیطرف لا دو ۔ ہماری نسلوں کو قرضوں سے آزاد کرا دو ۔ ملک کا کھویا ہوا وقار واپس دلا دو ۔ ملک کا لوٹا ہوا پیسہ واپس دلادو ۔ ہمیں امن واپس لا دو۔
آزاد ھاشمی

No comments:

Post a Comment