" آل رسول کا کیا قصور تھا "
زمانہ کتنی بھی پردہ پوشی کرے حقائق کو کوئی بھی رنگ دیا جائے ۔ اس حقیقت سے قطعی فرار ممکن نہیں کہ آل رسول سے دشمنی کی وجہ , اقتدار کی ہوس تھی ۔ خاندانی رقابت تھی اور کینہ تھا ، جسکا آغاز اسلام کے طلوع ہونے پر شروع ہو گیا تھا ۔
خاندان امیہ کے جانشین , اپنی تمام تر توانائیوں کو آل رسول کے خلاف استعمال کرنے پر عمل پیرا تھے ۔ علی کرم اللہ وجہہ کی خلافت کے خلاف ریشہ دوانیوں سے ہٹ کر کھلی بغاوت پر اتر آنا ، اس سوچ کی عکاس تھی . کربلا میں شہادت حسین علیہ السلام کے بعد جو بربریت , انسانی تاریخ کا بد ترین سلوک پردہ دار بیبیوں ، معصوم بچوں سے کیا گیا ۔ اس بات کی کھلی دلیل ہے کہ ایمان کی ایک معمولی سے رمق ان لوگوں میں باقی نہ تھی ۔ انسان کے لباس میں ان درندوں نے ، آل رسول کو تاراج کرنے میں ہر حربہ اختیار کیا ۔ اسکے بعد تسلسل سے تمام امام , جن کی علمی قابلیت مسلم تھی ، جو صرف اسلام کی تعلیم کو فروغ دینے کی سعی کرنے کو اپنی زندگی کا حاصل سمجھتے تھے ۔ اموی جانشینوں نے جینے کا حق چھین لیا ۔ اور ایک کے بعد ایک مکتبہ فکر کو پروان چڑھاتے رہے ۔ امامت کو حکومتی سرپرستی میں لے آنے کی قبیح کوشش کا نتیجہ ہے کہ آج اسلام فروعی اختلافات کا مذہب بن کر رہ گیا ۔ قران سے دوری اسی سوچ سے شروع ہوئی ، یہ تصور اسی لئے وجود میں آیا کہ قران کو سمجھنا ، ایک عام ذہن کے بس میں ہی نہیں ، اس غرض سے ان گنت مفروضوں نے جنم لیا ۔ ان گنت حوالہ جات جمع ہوئے ۔ اور یہی فقہ بن گئی ، یہی اجتہاد ہو گیا ۔ اسے ہی دین سمجھا جانے لگا ۔
صرف اور صرف آل رسول کو خارج کیا گیا ۔
سوال یہ ہے کہ آل رسول سے جو امام تھے ، ان سے آخر دشمنی کیا تھی ، کیوں تھی ۔
سوال یہ ہے کہ اسکے اثرات مثبت نکلے یا منفی ۔
ازاد ہاشمی
Saturday, 5 May 2018
آل رسول ؐ کا کیا قصور تھا؟
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
No comments:
Post a Comment