" عمران خان کے نام "
اللہ آپ کے نیک ارادے پورے فرمائے ۔ خیال رکھیں کہ دنیا میں جب کسی سیاستدان کو زوال آیا ہے تو اسکے حواریوں کی بے جا خوشامد کی وجہ سے ۔ مفاد پرست لوگ عام طور پر خوشامدی ہوتے ہیں اور ہر احمق لیڈر کو وہی لوگ سب سے زیادہ اچھے لگتے ہیں ۔ آپ کے گرد ایسے لوگوں کا گھیرا بہت مضبوط اور بہت تنگ ہو گیا ہے ۔ مجال کوئی آپ کی کسی حماقت پر بھی تنقید کر سکے ۔ یہ اچھا شگون نہیں ہے ۔ یہ آپ کو لے ڈوبے گا ۔ بےحد اکڑ ویسے بھی آپ کے مزاج کا حصہ ہے ۔ جس سے آپ چھٹکارا نہیں پا سکے ۔ خیر ! آپ نے اپنے منشور کے گیارہ نکات بیان کئے ۔ جو کچھ یوں ہیں ۔
١۔ ایک تعلیمی نصاب
٢۔ صحت کاخیال
٣ ۔ ٹیکس سسٹم کی بہتری
٤ ۔ کرپشن پرقابو
٥ ۔ انویسٹمنٹ لانے کا وعدہ
٦ ۔ بےروزگاری کا خاتمہ
٧ ۔ نظامِ حکومت اور گورننس کی درستگی
٨ ۔ زرعی ایمرجنسی کا نفاذ
٩ ۔ ایک جیسا بلدیاتی نظام
١٠ ۔ پولیس نظام میں اصلاحات
١١ ۔ خواتین کو تعلیم، قانونی تحفظ، جائیداد میں حق ۔
یہ ہیں وہ گیارہ نکات ، جو آپ کا منشور ہے ۔ حالانکہ یہ سارے کام ایک حکومت کے عمومی کام ہوتے ہیں ۔ آپکی پارٹی کے دانشوروں نے قوم سے مذاق کو بھی آسمان پر بٹھا دیا ہے ۔ باور رہے کہ ایسے مذاق سنتے سنتے میرے جیسے کتنے لوگ بوڑھے ہوگئے ۔ ان تمام نکات میں کوئی بھی انقلابی پیغام نہیں ہے ۔ بھٹو نے روٹی ، کپڑا اور مکان کا نعرہ لگایا ، کیا کرایا کچھ نہیں مگر آج بھی زندہ ہے ۔ نواز شریف نے کشکول توڑنے کی بات کی اور پھر سڑک پر چادر بچھا کےمانگنے لگا ، آج بھی " شیر " کہلا رہا ہے ۔ جماعت اسلامی نے اسلام کے نظام کی بات کی ، گو کندھے پر جمہوریت کی سیڑھی اٹھائے بیٹھے ہیں وغیرہ وغیرہ ۔ آپ نے تو قوم سے ایسا مذاق کیا ہے کہ میرے پاس کوئی پیغام نہیں ۔ یہی کچھ ہے میری پٹاری میں ۔
کہنا یہ ہے کہ جو اس پر بھی آپ کی واہ واہ کر رہے ہیں ، سب کے سب آپ کی ٹانگ کھینچنے والے ہونگے ۔ ہوش سے کام لیں ، اور منشور پر نظر ثانی کریں ۔ یہ کوئی قابل تعریف منشور نہیں ۔ اگر قوم کو شعور آگیا تو آپ بہت بری شکست سے دوچار ہونگے ۔ یہ تمام نکات ایک مقتدر پارٹی کی ڈیوٹی ہے اور اس سے کوئی ترقی اور تبدیلی نظر نہیں آ رہی ۔
آزاد ھاشمی
Wednesday, 2 May 2018
عمران خان کے نام
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
No comments:
Post a Comment