Wednesday, 2 May 2018

اسمبلی ممبران کی حدود کا تعین

" اسمبلی ممبران کی حدود کا تعین "
اسمبلی میں جو لوگ پہنچتے ہیں ، انکا اصل کام یہ ہے کہ قانون سازی کریں تاکہ ابہام سے پاک معاشرہ جنم لے ۔ مگر جتنا ابہام اس اسمبلی کی کارکردگی سے پیدا ہوا ہے ۔ جتنی کرپشن ان لوگوں کے توسط سے پھیلی ہے ، وہ عام حالات سے کبھی نہ پھیلتی ۔ اداروں میں اقرباء پروری سے جو ماحول پیدا ہوا ہے کہ تمام ادارے غیر فعال ہو گئے ہیں ۔ اب مراعات کی مد میں جو لوٹ کھسوٹ ہو رہی ہے اور جو ہونے جا رہی ہے ، وہ رہی سہی معیشت کو بھی تباہی کے دھانے تک پہنچا دے گی ۔ ان سے پوچھا جائے کہ

١- آپ لوگ پاکستان کے کس قانون کے تحت پینشن کا حق رکھتے ہیں ، جبکہ آپ پاکستان کے قانون ملازمت کے تحت ملازم ہی نہیں ہے ۔
٢- آپ جو تنخواہ وصول کرتے ہیں ، وہ پاکستان کے کس گریڈ کے مطابق لیتے ہیں ۔ جبکہ قابلیت کے اعتبار سے شاید چند ممبران کے پندرہ گریڈ سے زیادہ کسی کی اہلیت ہی نہیں ۔ کیا یہ ملک کی خدمت ہے یا دھوکہ ؟ اور اس دھوکے میں چور اور سادھ سب ایک ساتھ ہیں ۔ اس میں کوئی حب الوطنی نہیں بلکہ حب الشکم ہے ۔
٣ ۔ایک اسمبلی ممبر بھی ویسا ہی گوشت پوست کا انسان ہے ، جیسا دوسرا شہری ۔ پھر ان ممبران کو حکومت کی طرف سے علاج معالجے کی خصوصی سہولتیں کس ضابطے کے تحت دی جاتی ہیں ۔ اگر ملک اندر علاج معالجے کا معیار درست نہیں تو ان قانون سازوں نے اس پر تحریک کیوں نہیں چلائی ۔ اگر معیار درست ہے تو پھر یہ علاج کے نام پر ملک کی دولت باہر کیوں لٹاتے ہیں ۔
٤ ۔ انتخابات پر اٹھنے والے اخراجات کے بعد اگر یہ ثابت ہو جاتا ہے کہ کوئی ممبر اسمبلی طے شدہ طریقے کے مطابق اسمبلی میں نہیں آیا تو ملک کا ضائع کردہ سرمایہ اس پر تاوان ہونا چاہئیے ۔ اس نے ملک سے دھوکہ کیا اسکی سزا انتہائی سنگین ہونا لازم ہے ۔ نا اہل قرار دے دینا قرین انصاف نہیں ہے ۔
٥ ۔ ہر ممبر اسمبلی اسی ملک کا عام شہری ہے ، قانون کا اطلاق مساوی ہونا چاہئیے ، اسے کوئی بھی استثناء دینا ملک کے مفادات اور معاشرتی آداب کے منافی ہے ۔ بلکہ اپنے عہدے کے اعتبار سے ممبر اسمبلی کی سزا عام شہری سے زیادہ ہونا چاہئیے ، کیونکہ اس نے دہرا جرم کیا ہے ۔
٦ ۔ جب ایک شخص وہ تمام مراعات حاصل کر رہا ہے ، جو اسکا حق نہیں اور دوسرے کسی شہری کو حاصل نہیں تو پھر پیٹرول ، آمدورفت ، بجلی ، پانی اور دیگر بلز میں رعایت کیوں دی جائے ۔ جو کہ تمام ممبران لے رہے ہیں ۔
٧ ۔ ناقابل فہم ہے کہ ہر ملازم کی عمر کا ایک تعین ہے ، تعلیم کا ایک معیار ہے ، پیشہ ورانہ تجربہ کی قید ہے اور ایک ضابطہ کے تحت اسے خدمت کا موقع دیا جاتا ہے ۔ قانون سازی اور وہ بھی ایک ریاست کیلئے ، نہ تعلیم کا معیار ہے ، نہ تجربہ ، نہ پیشہ ورانہ قابلیت ۔ جس کا دل چاہے حرام ، حلال کی دولت خرچ کرے اور ملک کو لوٹتا رہے ۔
قوم کو ہوش کرنا ہوگی۔ کیونکہ سب کے سب چور ہیں ۔ اور سب کے ان مراعات پر ایک ہیں ۔ نہ قوم کی فکر ہے اور نہ وطن سے لگاو ہے ۔
آزاد ھاشمی

No comments:

Post a Comment