Thursday, 3 May 2018

پانی کس نے بیچا

" پانی کس نے بیچا "
ایک پوسٹ لکھی تھی جس میں قوم کو اگاہ کیا تھا کہ ہمارے رہنماوں نے وطن کا پانی بھی بیچ دیا ہے ، دریا بھی سوکھ گئے ہیں ۔ دس لاکھ ٹیوب ویل چلائے جا رہے ہیں تاکہ زراعت قائم رہ سکے ۔ ان ٹیوب ویل سے بجلی اور پٹرول کا بھی ضیاع ہے اور کسان بھی کچھ حاصل نہیں کرتا ۔ ہمارے سیاستدانوں کو اسکا کوئی حل منشور کا حصہ بنانا چاہئیے ۔ کچھ دوستوں نے پوچھا کہ کھل کر بتائیں کہ کس حکمران کے وقت یہ ہوا ۔ کچھ نے کہا کہ منافقت ہو گی اگر اسے ظاہر نہ کیا گیا ۔
یہ آغاز سندھ طاس معاہدے سے ہوا جو ایوب خان کے وقت کیا گیا ۔(
اگر میری معلومات درست ہیں )
مگر یہ ابتداء تھی حماقت کی ۔بھارت  نے معاہدے کے متن سے ہٹ کر پانی تقسیم کرنے کی بجائے اس پر ڈیم بنانے شروع کر دئیے  اور پورے پانی پر قبضہ جما دیا ۔ یہ ایک اہم ایشو تھا جس پر آنے والی تمام حکومتیں مصلحتوں کا شکار رہیں ۔ بیشمار سیکرٹری لیول پر اجلاس ہوئے مگر ہمارے لوگ پیسے لیکر معاملے کو التوا کا شکار کرتے رہے ۔ نتیجہ یہ ہوا کہ بھارت نے ڈیم مکمل کر لئے ۔ ہماری بے حسی کا اندازہ اس بات سے بخوبی لگایا جا سکتا ہے کہ بین الاقوامی قانون کے مطابق کوئی ملک پانی کے ذرائع کو مکمل روکنے کا حق نہیں رکھتا ۔ ہماری خارجہ ترجیہات میں کشمیر کے مسئلے کے سوا کبھی کوئی دوسرا مسلہ نہیں رہا ۔ وہ بھی ہم آج تک منوانے میں کامیاب نہیں ہوئے ۔
جو لوگ پوچھتے ہیں کہ پانی بیچنے کا اصل ذمہ دار کون ہے تو میری ذاتی رائے کے مطابق تمام حکمران جو اس مسئلے پر خاموش رہے ، تمام اسمبلی کے ممبران جو آج تک اسمبلیوں میں  آئے اور اس پر نہ کبھی  سوال کیا ، نہ کوئی بل لائے اور نہ کوئی قانون بنایا ۔
میری نظر میں وہ تمام لوگ اس جرم میں شامل ہیں جو یہ جانتے ہیں کہ یہ سانحہ ملکی معیشت پر کاری ضرب ہے اور خاموش ہیں ۔
جو یہ کر کے چلے گئے اب ان پر چیخنا یا شور مچانا بے سود ہے ۔ سانپ جانے کے بعد رسی پیٹنے سے کچھ حاصل نہیں ہوگا ۔ جو آ رہے ہیں انکو اس پر لازمی متحرک ہونا ہو گا ۔ کیونکہ بین الاقوامی قانون کے مطابق بھارت پانی کو روکنے کا حق نہیں رکھتا ۔ پانی کو تقسیم کر سکتا ہے کیونکہ اسکی حدود میں بھی آتا ہے ۔
آزاد ھاشمی
٣ مئی ٢٠١٨

No comments:

Post a Comment