" شیطان کی عبادت "
سورہ یسین ٦٠ میں حکم ربی ہے
" یا بنی آدم ! کیا میں نے تمہیں تاکید نہیں کر دی تھی کہ تم شیطان کی عبادت نہ کرنا ۔ وہ تمہارا کھلا دشمن ہے "
اللہ سبحانہ تعالیٰ نے کسی ایک امت کو مخاطب نہیں کیا ، بلکہ پوری بنی نوع انسان کو مخاطب کیا ہے ۔ شیطان صرف مسلمانوں کا دشمن نہیں بلکہ ہر آدم زاد کا دشمن ہے ۔ اسے ضد ہے کہ ہر آدم زاد کو گمراہ کرے گا ۔ یہاں ایک بات کی وضاحت درکار ہے ، وہ ہے عبادت ۔ اگر ہم پورے مشاہدے سے دیکھیں تو کوئی بھی انسان شیطان کے سامنے سجدہ ریز نہیں ہوتا ۔ عبادت دراصل عبدیت کا اظہار ہے ، جو ہر انسان اپنے عمل ، قول اور فعل سے کرتا ہے ۔ اگر قول وفعل اور عمل حکم ربی کے تحت ہے تو رب العٰلمین کی عبادت ہے ۔ اگر اللہ واحدہ لا شریک کے احکامات کے مطابق نہیں تو عبادت نہیں ، دکھاوا ہے اور یہ دکھاوا شیطان کی اتباع ہے ۔ بنی نوع انسان میں کتنی قومیں ، کتنے مذاہب اور کتنے انسان ہیں تو اللہ کے احکامات سے سرکشی کرتے ہیں ۔ اللہ کے حکم کی سرکشی ، شیطان کی عبادت ہے ۔ شیطان نے کہا تھا کہ بنی آدم دنیا میں فساد پھیلائے گا ، خونریزی کرے گا ، برائی کو پروان چڑھائے گا ، اللہ کی نا فرمانی کرے گا ۔ جو کوئی بھی یہ کرتا ہے، وہ شیطان کا بندہ ہے اور شیطان کی پوجا کرتا ہے ۔ اللہ سبحانہ تعالیٰ نے کتنے انبیاء اور رسول بھیجے کہ انسان شیطان کے جال میں نہ پھنسے ۔ مگر آج بھی اکثریت شیطان کو پوج رہی ہے ۔ ان راستوں پر چل رہی ہے ، جن سے اللہ نے منع فرمایا اور جن میں شیطان نے رغبت پیدا کی ۔
ہم بحیثیت مسلمان ، اس حکم سے با خبر ہیں کیونکہ ہمیں قران مبین نے بتادیا کہ شیطان تمہارا کھلا دشمن ہے اسلئے اسکے راستے پر مت چلو ۔ اگر ایسا کروگے تو تم شیطان کی عبادت کرو گے ، رحمٰن کی نہیں ۔
آزاد ھاشمی
٦ مئی ٢٠١٨
Sunday, 6 May 2018
شیطان کی عبادت
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
No comments:
Post a Comment