Wednesday, 31 January 2018

جا بیٹا پریشان نہ کر

" جا بیٹا ! پریشان نہ کر  "
بازار سے بالکل دور ، فٹ پاتھ پہ دیوار کے سائے تلے وہ چھوٹی سی ٹوکری میں چند ماچس کی ڈبیاں ، چند فینائل کی گولیاں ، شیونگ ریزر اور پنسلیں رکھے بیچ رہی تھی ۔ بوڑھی ہڈیوں سے گوشت لٹک چکا تھا ۔ بالوں میں کئی روز سے کنگھی نہیں کی گئی تھی ۔ مگر پھر بھی چہرے پر ایک وقار اور آنکھوں میں ایک چمک تھی ۔ ایسی جگہ بیٹھی کہ شاید ہی کسی کی نظر پڑے اور کچھ خریدنے کو آئے ۔ اسی جگہ چند دن پہلے میں نے اس سے ضرورت کے بغیر بہت ساری چیزیں خریدی تھیں ۔ اور چند روپے زاید دینے کی کوشش کی تھی ۔ وہ بضد تھی کہ وہ صرف سامان کے پیسے لے گی ۔ میں اضافی پیسے چھوڑ کے آگے بڑھا تھا تو اس نے میرے پیسے زمین پر دور رکھ دئے تھے ۔ آج بھی ایسا ہی ہوا ۔
میں اس عمر رسیدہ عورت کو " ماں " کہنے میں خوشی محسوس کر رہا ہوں ، کہ اس عمر میں بھی ، سخت ضرورت میں بھی اپنا وقار برقرار رکھے ہوئے ہے ۔ آج میں پوچھنے بیٹھا کہ وہ یہ سامان کیوں بیچتی ہے اور پھر ایسی ویران جگہ پہ کیوں بیٹھتی ہے ۔
" بیٹا ! مجھے اپنی روٹی کیلئے جتنے پیسے چاہئیے ہوتے ہیں ۔ اتنے اس جگہ مل جاتے ہیں ۔ سارا دن بیٹھی رہتی ہوں اللہ ایسے گاہک بھیجتا ہے جن کو ان چیزوں کی ضرورت نہیں ہوتی ۔ وہ اس زمین پر بیٹھ کر مجھ سے چیزیں خرید لیتے ہیں ۔ میں بہت خوش ہوتی ہوں جب ایسے گاہک چیز خریدتے ہیں ۔ پتہ کیوں ۔ اسلئے کہ میرا رب میرا خیال رکھے ہوئے ہے ۔ یہ گاہک اسکے بھیجے ہوئے ہوتے ہیں ۔ اسی بہانے سے اپنے رب سے باتیں بھی کر لیتی ہوں "
ماں جی کی بات سنتے ہی میرے آنسو بہہ نکلے ۔ ایمان کی یہ حد ۔ شکر کا یہ مقام ۔
" آپ تھوڑا مارکیٹ کے قریب اور ایسی جگہ بیٹھیں جہاں نظر آسکیں "
میں نے رائے دی تو وہ نہ جانے کب سے آنسووں کا طوفان روکے بیٹھی تھی ۔ زار و قطار رونے لگی ۔
" سڑک پر سے میرے بچے گاڑیوں میں گزرتے ہیں ۔ وہ دیکھ لیں گے تو انہیں دکھ ہوگا ۔ "
میرے پاوں سے زمین نکل گئی ۔
" بد بخت اولاد "
میرے منہ سے بے اختیار نکلا ۔
" نہ بابو ۔ ایسے نہ بول ۔ اللہ نے انہیں بخت لگائے ہیں ۔ بس ڈرتی رہتی ہوں اللہ انکی پکڑ نہ کر لے ۔ اللہ سے انکے حق کی معافی بھی مانگتی رہتی ہوں ۔ اولاد دکھی ہو تو ماں کا سینہ پھٹ جاتا ہے ۔ میرا کیا ہے کچھ دنوں کی مہمان ہوں ۔  کسی روز یہاں سے ہی چلی جاوں گی ۔ میں انکے ساتھ رہتی تھی تو انکے گھروں میں لڑائیاں ہوتی تھیں ۔ اب سکون سے ہونگے ۔ ماں کا یہی ارمان ہوتا ہے کہ اولاد خوش رہے ۔ بس میری روٹی اللہ بھیج دیتا ہے ۔ "
" پھر بھی ۔۔۔۔ " میں کچھ اور کہنے ہی والا تھا کہ ماں جی نے ٹوک دیا
" بس بیٹا بس ۔ ماوں کر زخم نہیں کریدنا چاہیئے ۔ بہت درد ہوتی ہے ۔ اب رہنے دو ۔ میں ٹھیک ہوں ۔ "
اس نے آنسو روکنے کی بے سود کوشش کرتے ہوئے کہا ۔
" ماں جی میرے ساتھ چلیں ۔ اپنا بیٹا سمجھ لیں "
میں نے اصرار کیا تو وہ غصے میں آ گئیں
" جا بیٹا ! پریشان نہ کر "
آزاد ھاشمی

No comments:

Post a Comment