Monday, 5 February 2018

عطاء الحق قاسمی کے نام

"عطاء الحق قاسمی کے نام "
محترم ! اللہ کی دی ہوئی عزت اور دولت کو ایک ترازو میں تولنے کی حماقت ، آپ جیسے دانشور سے متوقع نہ تھی ۔ یہ مٹی جس نے آپ کو وجود دیا ، پہچان دی اور جس نے ہر مشکل میں ماں کیطرح اپنی کھوکھ میں سنبھالا دیا ۔ اس دھرتی کی لاج ہی رکھ لی ہوتی ۔ ان غریبوں ، یتیموں ، بے کس اور نادار لوگوں کا خیال کر لیا ہوتا ، جو بھوکے ننگے رہ کر ایک ایک لقمے کا ٹیکس ادا کرتے ہیں ۔ آپ نے ادب کے نام پر انہیں لوٹنا شروع کر دیا ۔ یہ پیسے جو آپ اپنی اجرت سمجھ کر وصول کرتے رہے ، یہ اسی ٹیکس سے ادا ہوتے رہے ۔ جن کی۔خوشامد آپ کرتے تھے ، وہ شاہ تو خود بھوکے تھے ۔ وہ خود اسی دھرتی کو لوٹ رہے تھے ۔ آپ تو لکھاری تھے ، لوگ آپ کو دانشور سمجھے بیٹھے تھے ۔ یہ آپ نے لوٹ مار کیوں کی ۔ کبھی ضمیر نہیں جاگا آپکا ۔ کبھی سوچ نہیں آئی کہ چند دن کی باقی زندگی میں کیا کروگے اس دولت کا ۔ وہ لوگ جو آپ کے احترام میں اٹھ کر استقبال کرتے تھے ۔ آج آپ کو کیا القاب دے رہے ہیں ۔ آپ پڑھتے تو ہونگے ۔
کیا اچھا نہیں کہ غلاظت کا ڈھیر ، جو آپ بے اکٹھا کیا ۔ اتار پھینکیں ۔ لکھنے والے یہ تو لکھیں کہ ایک دانشور نے قوم کی امانت قوم کو لوٹا دی ۔ یہ تو نہ لکھیں کہ اس دھرتی کے لکھاری اور دانشور بھی سیاستدانوں کی طرح حریص اور لٹیرے تھے ۔ یاد رکھو ! اس کردار کے لوگوں پر مرنے کے بعد کبھی سیمینار نہیں ہوتے ، لعن طعن ہوتی ہے ۔ دانش کا بھرم رکھیں اور غریبوں کا مال واپس کر دیں ۔
آزاد ھاشمی

No comments:

Post a Comment