Monday, 5 February 2018

اس یلغار کو روکنا ہوگا

" اس یلغار کو روکنا ہو گا   "
جتنے بھی میڈیا ہیں ، ان سب پر پاکستان نژاد انگریز ، جن کو گوروں کی ترقی نے اندھا کردیا ہے ۔ اپنی غلامی کا حق ادا کرتے ہوئے ، اسلام کے خلاف تحقیق کے نام پر ایسے ایسے سوال اٹھا رہے ہیں کہ عام علمیت کا مسلمان تذبذب میں پڑ جاتا ہے ۔ برین واش کرنے کی کوشش کو یہ لوگ کہتے ہیں کہ ہم اپنے علم میں اضافہ کرنا چاہتے ہیں اور صاحبان علم کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کرنا چاہتے ہیں ۔ ان میں سے کچھ نے قران کی اصطلاحات کو عجیب سے معنے اور عجیب سے مفہوم دینا شروع کر دئیے ہیں ۔ ن
ارکان اسلام کی موجودہ روایت کو مسخ کرنا ، یہ کہنا کہ قران میں خنزیر کسی جانور کیلئے نہیں بلکہ علماء کیلئے استعارہ استعمال ہوا ہے ، انبیاء کرام پر سوالات سے انکے تشخص کو خراب کرنا ، اہل بیت کو غلط اور یزید کو سچ ثابت کرنا وغیرہ وغیرہ ۔
جب ایسی بحث کا آغاز ہو جاتا ہے تو باقاعدہ چند لوگ اس خیال کو درست کہنے ، اس بحث کو علمی بحث کہنے ، اور اسکی حمایت کو علم و دانش کہنے لگتے ہیں ۔ اگر کوئی اس بحث پر مخالف رائے دے تو اسے سب جہالت کہنے لگتے ہیں ۔
ایسی بحث کا آغاز کرنے والے اور اس میں حصہ لینے والے ڈاکٹر اور انجنئیر ہوتے ہیں یا پوری طرح قران کے عالم ہونے کا دعوی کرتے ہیں ۔ جب انکی پروفائل دیکھی جائے تو یہ یورپ میں سکونت پذیر ہوتے ہیں ۔ مگر اصل تعلق بھارت یا پاکستان سے ہوتا ہے ۔
میں نے اس پر بہت بار توجہ دلانے کی کوشش کی مگر ہمارے لوگ اس فتنے سے نمٹنے کی کوئی راہ تلاش نہیں کر رہے ۔ ہم جاہلوں کو ان علماء کے خلاف میدان میں آنا ہو گا ۔
اللہ کے سامنے سرخروئی کیلئے اس یلغار کو میڈیا پہ روکنا ہو گا ۔
آزاد ھاشمی

No comments:

Post a Comment