Wednesday, 7 February 2018

غور طلب

" غور طلب "
اللہ سبحانہ تعالی نے اپنے کامل دین کی حفاظت کا ذمہ لیا ، مگر ہر مسلمان پر اسلام اور تعلیمات اسلام کے ابلاغ کی ذمہ داری بھی رکھی ۔ ایسا کیوں ؟ بہت سیدھی سی وجہ ہے کہ اللہ سبحانہ تعالی چاہتا ہے کہ بحیثیت مسلمان ،  ہم اسلام اور اسلامی تعلیمات سے جڑے رہیں ۔ عبادات کرکے الگ ہو کر بیٹھ جانا کافی نہیں ۔ اپنی ذات تک محدود ہو کر بیٹھے رہنا اسلامی تعلیم نہیں ۔ معاشرے کی اصلاح ہر مسلمان کے فرائض میں ہے ، امر بالمعروف اور نہی عن المنکر ، ہر اس مسلمان کے فرائض میں ہے جو دیوانہ نہیں ۔
ایک عجیب سا رحجان جنم لے رہا ہے ۔ کہ کچھ لوگ ، جو مسلمان بھی ہیں ، عقل اور شعور بھی رکھتے ہیں ، مطالعہ بھی کرتے ہیں اور الفاظ کا مفہوم بھی اچھی طرح سمجھتے ہیں ۔ ذرائع ابلاغ پر ایسے ایسے سوالات اٹھا رہے ہیں ۔ جس کی تحقیق کی نہ کوئی ضرورت ہے ، نہ مذہب کے ابلاغ کا کوئی قصد ہے اور نہ علمی بحث ہے ۔ بحث کو اس سوچ کے اظہار سے شروع کیا جاتا ہے تاکہ علم و آگاہی کو فروغ ملے ۔ اس بحث میں ایسے موضوعات منتخب کئے جاتے ہیں ، جو بالآخر اسلامی تعلیمات میں خامیاں تلاش کرنے کیطرف گھوم جاتے ہیں ۔ اس میں چند مخصوص لوگ باقاعدگی سے دلچسپی لیتے ہیں ۔ اور اگر کوئی نو آموز داخل ہو جائے تو بہکاوے میں آسانی سے آجاتا ہے ۔ یہ ساری کوشش اسلام کی تعلیمات کو مشکوک کرکے اپنے ملحدانہ خیالات کو فروغ دینے کی سعی ہوتی ہے ۔ یہ امر انتہائی غور طلب ہے ۔ ایک مسلمان کا یہ کہہ کر کنارہ کش ہو جانا کہ اللہ اسلام کی خود حفاظت کرے گا ۔ کسی طور مناسب نہیں ۔ یہ معاملہ غور طلب ہے ۔ اور اس سازش کو روکنا ہر مسلمان پر فرض ہوتا ہے ۔ ایسی سازشوں کو علماء کے سامنے بھی لانا ضروری ہے ۔
آزاد ھاشمی

No comments:

Post a Comment