" بس یہی زاد سفر ہے "
پوری زندگی کا ارمان رہا کہ کچھ ایسا کر جانا چاہئیے ، جس سے رب راضی ہو جائے ۔ یہی دعا اللہ کے گھر پر پہلی نظر پڑتے کی تھی ۔ موت تو انسان کا لازم مقدر ہے ، آج یا کل ہر نفس کو کفن پہننا ہے ۔ کیا ہی اچھا ہو کہ کفن اوڑھنے کا خوف نہ ہو ۔ اللہ کے بلاوے پہ مسکراتے ہوئے لبیک کہنے میں جو سکون ہے ، وہ سسکتے ہونٹوں سے مرنے میں کہاں ۔ دنیا کے حصول میں کوئی کسر نہیں چھوڑی جاتی مگر جب اللہ کیلئے جینے کی بات ہے تو کئی بہانے تلاش کرنے پڑتے ہیں ۔ کیا مقدر ہے کہ کوئی ، جب اللہ کیلئے جینے ، اللہ کیلئے مرنے کا مزہ لیتا ہے ۔
کربلا میں یزید نے جینے کی کوشش کی ، ایسا مرا کہ لعنتیں ملتی ہیں اور ملتی رہیں گی ۔ آل رسول ؐ کے ایک شہزادے نے اللہ کیلئے جینا اور اللہ کیلئے مرنے کا ایسا کردار چھوڑ دیا کہ کائنات کا ذرہ ذرہ فخر کرتا ہے ۔
یہی سب سوچتا ہوں اور ہر اللہ کے دین کے مخالف سے الجھ جاتا ہوں ۔ قلم کی تلوار ہاتھ میں ہے ، چلانے لگتا ہوں ۔ اس یقین کے ساتھ کہ یہی زاد سفر ہے میری جھولی میں ۔ شاید ایک سطر ایسی لکھ لوں جو میرے اللہ کو پسند آجائے ۔ اور میری نجات بن جائے ۔
آزاد ھاشمی
Monday, 5 February 2018
بس یہی زاد سفر ہے
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
No comments:
Post a Comment