" بہتر ہے ، توبہ کر لیں "
ہم سب نے مل کر ، اللہ سبحانہ تعالی کے نظام کو حجروں میں قید کر دیا ۔ اسوہ حسنہ سے لاکھوں احادیث جمع کیں اور ان پر مسالک کی تشکیل کردی ۔ آسان ہو گیا کہ اسلام کے نظام سے انحراف کر لیا جائے ۔ جمہوریت سے دل جوڑ لئے ۔ انگریز کو تہذیب کا سرچشمہ مان لیا اور اسی تہذیب میں داخل ہونے کے جتن کرنے لگے ۔ حد ہو گئی کہ جن سے توقع تھی کہ اللہ سبحانہ تعالی کے نظام کیلئے جہاد کریں گے ، انہوں نے جمہوریت کو دین مان لیا ۔ بڑے بڑے دیندار اسی جمہوریت کی راہ پر چل کر لٹیرے بن گئے ۔ اسلام کا جھنڈا پکڑے جمہوریت کی بساط بچھانے کی کوشش ہونے لگی ۔ مدارس میں دین سکھانے والے خود پرستی کرکے قیادت کیلئے متحرک ہوگئے ۔
آج چور ، لٹیرے ، زانی ، شرابی ، نماز روزے کے منکر ، قرآن کی چند آیات سے بھی بے خبر اور ظلم کو پالنے والے حکمران بن گئے ۔ کیا تماشا ہے کہ جن کو قانون تلاش کر رہا ہے ، جو عدالت نے مجرم قرار دے دئیے ، وہ سب بریت لیکر مقننہ کے اعلی ترین مقام پر بیٹھیں گے ۔ وہ دستور بنائیں گے ، وہ قوم کی راہ کا تعین کریں گے ۔ وہ عوام کی قسمت لکھیں گے ۔
کیا یہ اللہ کی پکڑ نہیں ۔ پوری قوم جس خوف اور بدامنی کا شکار ہے ، یہ اللہ کیطرف سے تنبیہہ ہے کہ سدھر جاو ۔ امن کے نظام کی طرف لوٹ آو ، توبہ کا دروازہ ابھی کھلا ہے ۔ اللہ کے دستور اور قانون کیطرف مڑ جاو ۔ کہیں بہت دیر نہ ہو جائے اور پکڑ سخت نہ ہو جائے ۔ وقت ہے توبہ کر لو ۔
آزاد ھاشمی
Friday, 9 February 2018
بہتر ہے ، توبہ کر لیں
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
No comments:
Post a Comment