Monday, 5 February 2018

چلیں آپ رہنمائی فرمادیں

" چلیں ، آپ رہنمائی فرمائیں "
ہم اس مذہب سے تعلق کا دعوی کرتے ہیں ، جو درگذر ، تحمل اور باہمی محبت کا درس دیتا ہے ۔ جو اخلاقیات کا سب سے بڑا مذہب ہے ۔ بد گوئی ، بد کلامی اور اخلاقیات سے گری ہوئی گفتگو نہایت معیوب کہتا ہے ۔ مجھے اور آپ کو اس پر چلنا چاہئیے ۔ مگر اب کچھ جدیدیت کے مفکرین نے ایسے حالات پیدا کر دئیے ہیں کہ اگر انہیں مسلسل برداشت کیا جائے تو ایمان مشکوک ہے ۔ حکم ہے کہ برائی کو طاقت سے روکا جائے تو ایمان کا بہترین درجہ ہے ، اگر زبان سے روکا جائے تو کمزور درجہ ہے اور اگر برا سمجھا جائے تو کمزور ترین درجہ ہے ۔ جب کوئی آپ کے دین پر وار کرے تو جہاد واجب ہو جاتا ہے ، آپ قلم سے کریں ، زبان سے کریں ، علم سے کریں یا تلوار سے ۔ حالات کی مناسبت سے جو ممکن ہے وہ کرنا واجب ہے ۔ اب اگر ایک شخص مسلمان ہونے کا دعوی بھی کرے اور یہ پرچار بھی کرے کہ قران میں نماز کا کوئی حکم نہیں ۔ اور جو نماز ، ہم پڑھتے ہیں وہ زرتشت کی نماز ہے ۔ جو یہ کہے کہ قران میں خنزیر کا ذکر کسی جانور کے بارے میں نہیں ، مسلمان علماء کے بارے میں ہے ۔ اسوہ حسنہ پر مذاق کیا جائے کہ اگر  اسوہ حسنہ پر چلا جائے تو گیارہ شادیاں لازم بنتی ہیں ۔ ایسی اور بہت سی باتوں کو علمی بحث کہہ کر اسلام کی تعلیمات کامذاق اڑایا جائے ۔ کم علم لوگوں کے دلوں میں شکوک بٹھا دینے کی کوشش کی جائے ۔ تو ایسے وقت تحمل کا دامن تھام کر تماشہ دیکھتے رہنا ، یا کنارہ کش ہو کر بیٹھ جانا ، یا انفرینڈ کر دینا بہتر ہے ، یا اس سازش کے خلاف اپنی استطاعت کے مطابق کوشش کرنا بہتر ہے ۔ فیصلہ آپ کے ہاتھ میں ہے ۔
آزاد ھاشمی

No comments:

Post a Comment