" مسلمان کا جینا اور مرنا "
اللہ ہم پر رحم کرے ۔ آئے روز ایک نیا سوال ، سیدھے سادے ذہنوں کو پراگندہ کرنے کیلئے داغ دیا جاتا ہے ۔ ادھر ہم لوگ سیاسی تماشوں میں الجھے بیٹھے اور ہمارے علماء کے پاس وقت نہیں کہ اس ناسور کو روکنے کیلئے اپنی علمیت سے حقیقی اسلام کی اگاہی دیں ۔ ایک نیا سوال سوشل۔میڈیا پہ ہے ، آپ بھی ملاحظہ فرمائیں ۔
(اسلام مکمل ضابطہء حیات ہے !!
یا ضابطہء موت ہے؟؟
مسلمان دنیا میں صرف مرنے کیلئے ہی کیوں جیتا ہے؟.. جینے کیلئے کیوں نہیں جیتا؟
اگر قرآن کے مطابق جینے کی بجائے صرف شہادت ہی نصب العین ہوتا تو حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالی' 63 سال کی عمر مبارک کے بعد طبعی وصال نہ دیتا. کئی غزوات ہوئے )
مذکورہ سوالات ، بظاہر عام سے سوالات ہیں اور کسی فارغ الذہن کی اختراع ہیں ۔ مگر حقیقت میں اللہ سے ساتھ رابطے پر سوال ہے ۔ مسلمان کیلئے حکم ہے کہ اپنی ذات، اپنی اولاد ، اپنے ماں باپ اور اپنے مال و اسباب سے بڑھ کر اللہ سے جڑا رہے ۔ یہ ایمان کا اعلی درجہ ہے ۔ موت ایسی حقیقت ہے جو اٹل ہے ۔ زندگی بے ثبات اور غیر یقینی ہے ۔ مسلمان کا ایمان ہے کہ اللہ کے سامنے پیش ہونا ہے ۔ یہی وہ سبب ہے کہ مسلمان موت کیلئے جیتا ہے اور اسی تیاری میں لگا رہتا ہے ۔ یہ دنیا کی چکا چوند اللہ کے سرکشوں کا انتخاب ہوتا ہے ۔ وہ اسی سے دل لگائے رکھتے ہیں ۔ چونکہ موت کی حقیقت سے کوئی مسلمان نا بلد نہیں ۔ اسلئے وہ چاہتا ہے کہ اچھی موت ملے ۔ ایسی موت جو اللہ کی رضا کے مطابق ہو ۔ اسلام جینے کا ضابطہ ہے ، مرنے کا ضابطہ ہے اور مرنے کے بعد کا ضابطہ ہے ۔ شہادت کی آرزو ، اللہ کے اس وعدے پر یقین کا نام ہے ، جو اللہ اپنے لئے مرنے والوں سے قرآن میں فرماتا ہے ۔ یہ موت کا اعلی درجہ ہے اسلئے ایک مسلمان کی تمنا ہوتی ہے کہ اسے یہ موت مل جائے ۔
انبیاء کا جینا اور مرنا سب اللہ کی رضا کے تابع ہوتا ہے ۔ اسے آپ ؐ کی شہادت نہ ہونے پر کسی سوال کی قطعی گنجائش نہیں ۔
آزاد ھاشمی
Monday, 5 February 2018
مسلمان کا جینا اور مرنا
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
No comments:
Post a Comment