Wednesday, 7 February 2018

میری قبر کے پھول

" میری قبر کے پھول "
بہت کوشش میں ہوں کہ چند ایسے پھول چن لوں ، جو میری قبر پر مہکتے رہیں ۔ اللہ سبحانہ تعالی کی رضا کے پھول ، جو نہ کبھی خشک ہوتے ہیں اور نہ کبھی خوشبو ماند پڑتی ہے ۔ ایمان ہے کہ جس قبر پہ ایسے پھول بچھے ہوں ، اسکے مقدر پر بادشاہ بھی رشک کرتے ہیں ۔ بہت جتن کرتا ہوں اور اپنے اعمال کی فہرست دیکھ کر سہم جاتا ہوں ۔ پھر اسکی رحمت کو آوازیں دینے بیٹھ جاتا ہوں ۔
" اے رحیم و کریم ۔ انسان ہوں ، حرص طمع کا پیکر ہوں ۔ خود نمائی کا مریض ہوں ، خوشامد پسند ہوں ، دنیا کی رعنائیوں پر بہک جاتا ہوں ۔ مگر تیری رحمت کے سامنے میری تمام کمزوریاں ایک تنکے سے بھی ہلکی ہیں ۔ قبر کی سختی سہنے کی طاقت نہیں ہے ۔ میرے اعمال میں اپنی رضا کا رنگ بھر دے "
دل بہل جاتا ہے کہ اللہ سبحانہ تعالی نے میری عرض سنی بھی ہوگی ، قبول بھی کی ہو گی ۔ پھر طمانیت سے دل بھر جاتا ہے ۔ اور اپنی قبر کو سجانے بیٹھ جاتا ہوں ۔ جس سے ڈر لگتا ہے ،
اسی میں رعنائی نظر آنے لگتی ہے ۔
کچھ ایسے پھول بھی اکٹھے کرنے کی آرزو پال رہا ہوں ، جو حقوق العباد سے ملتے ہیں ۔
کچھ ایسے پھولوں کے غنچوں کو بھی کفن پر پھیلانے کی سعی میں ہوں ،  جو اللہ سبحانہ تعالی کے پیاروں کی محبت سے ملتے ہیں ۔اللہ کے حبیب ؐ کی محبت کا پھول بھی سرہانے پہ ہو کہ دماغ مہکتا رہے ۔ آل رسول ؐ کی حب کے پھول بھی مل جائیں تو ساری حسرتوں کی تکمیل سمجھتا ہوں ۔
اگر یہ سارے پھول میری قبر پر مہک گئے تو میرے بخت کا عروج ہو گا ۔
اسی بخت کیلئے دل بیقرار  رہتا ہے ۔
آزاد ھاشمی

No comments:

Post a Comment