" کیسا تفاخر "
قبیلے اور قومیں ، پہچان کیلئے بنائے گئے ۔ اس میں فخر کا کوئی پہلو نہیں ۔ کردار اصل ہے ، جس پر اللہ کے ہاں درجات ہیں ۔ ایک سید اگر کردار کے اعتبار سے شیطنت کے قریب ہے تو اسکا سادات سے تعلق ، کسی تعظیم کے لائق نہیں چھوڑتا ۔ اللہ کے ہاں وہ مجرم ہے ۔ ایک شخص جو کسی پیشے کے اعتبار سے پہچانا جاتا ہے ، اور اسکا کردار اللہ کے پسندیدہ کرداروں میں ہے ۔ تو وہ بہتر ہے اس سید سے جو شراب بھی پیتا ہے ، جوا بھی کھیلتا ہے ، زنا بھی کرتا ہے اور لوگوں کو آزار بھی پہنچاتا ہے ۔ انسان کے اعمال , کردار اور اخلاق اصل پہچان ہے ۔ میری پہچان ہاشمی ہے ، اگر میرا کردار اپنے اجداد کی طرح صالحانہ نہیں تو میری پہچان مجھے اللہ کے ہاں معتبر نہیں کرتی ۔ اور جو اللہ کے ہاں معتبر نہیں اسکی دنیا میں توقیر کیسی ۔ اکثر دیکھنے میں آتا ہے کہ بڑے بڑے پیر ، محض اسلئیے عزت دار ہیں کہ وہ کسی بڑے صالحہ ولی اللہ کی اولاد سے ہیں ۔ یا کسی گدی پہ براجمان ہیں ۔
ہم تاریخ کے اوراق کو دیکھیں کہ بنو ہاشم کا فرزند اپنی ضد ، ہٹ دھرمی اور اللہ کے حبیب سے مخاصمت کے باعث " ابوجہل " بن جاتا ہے ۔ اور حبشہ کا غلام " اسلام کا موذن " بن کر اللہ کے قرب میں جنت میں داخل ہونے والا پہلا شخص ہو جاتا ہے ۔
ہم سب کو اپنی پہچان کے ساتھ ساتھ ذہن میں رکھنا چاہئیے کہ قبیلے کا نام عظمت نہیں ، کردار عظمت ہے ۔
آزاد ھاشمی
Thursday, 8 February 2018
کیسا تفاخر
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
No comments:
Post a Comment