" داڑھی کا تقدس "
ایک نئی دلیل داڑھی خلاف ۔ ملاحظہ فرمائیں ۔
(داڑھی کے تقدس کو پرانے زمانے میں شیونگ کی سہولت کے پس منظر میں بھی دیکھ لینا چاہئے ۔ اور اس بات پر بھی غور کر لینا چاہیے کہ پرانے زمانے میں Bad guys مثلا ابو جہل وغیرہ داڑھی منڈے کیوں نہیں ہوتے تھے ؟)
کمال ہو گیا ۔ ہمارے مفکروں کو عیسائیوں ، ہندووں ، یہودیوں ، ملحدوں ، مجوسیوں اور دیگر مذاہب کی اقدار پر غور کرنے کی بجائے ، اسلامی اقدار کو مشق ستم بنانے کا جنون سوار ہو گیا ہے ۔ سمجھ سے بالاتر ہے کہ اپنی اقدار کی خوبیوں سے روشناس کرانے کی بجائے ، منفی رحجان کا کیا سبب ہے ۔ داڑھی کے تقدس کو اگر اللہ کے حبیب ؐ کی مناسبت سے دیکھ لیا جائے تو بات بہت آسان ہو جاتی ہے ۔ بندہ جس سے محبت کرتا ہے ، اسکے تمام طریقے اچھے لگتے ہیں ۔ مسلمان چونکہ داڑھی کو کائنات کے سرور سے جوڑتے ہیں ، بلا شبہ ایک نیک کام بن جاتا ہے ۔ شکل و شباہت سے ہٹ کر عقیدت کا فعل ہو جاتا ہے ۔
اگر ہم مذاہب کی تاریخ کو دیکھیں تو ہر مذہب کی چند مخصوص اقدار ہوتی ہیں ۔ جن کا تعلق ، تمام قومیں اپنے پیشواوں سے جوڑے ہوئے ہیں ۔ اس میں لباس ، وضع قطع ، رہن سہن اور آداب زندگی شامل ہیں ۔ داڑھی ہندو بھی رکھتے ہیں ، یہودی بھی ، عیسائی بھی اور سکھ بھی ۔ مگر سب کا اپنا انداز ہے جو انکے مذہب کی پہچان کے مطابق ہے ۔ مسلمان بھی رکھتے ہیں ، جو قطعی طور پر پہچان کیلئے نہیں ،بلکہ حب رسول ؐ میں ۔ جو داڑھی نہیں رکھتے ، انکی اپنی اپنی سوچ ہے ۔ انہیں داڑھی والے قبول کرتے ہیں ۔ آخر داڑھی کو سوال بنا لینا کہاں کی تحقیق اور کہاں کا علم ہے ۔ ظاہر ہے جس کو رسول ؐ سے عقیدت ہے اور وہ اپنی شکل و شباہت اسی رنگ میں پسند کرتا ہے ۔ وہ بہتر ہے اس سے جو داڑھی کو وسائل کی عدم فراہمی کا رواج سمجھے ۔
آزاد ھاشمی
Monday, 5 February 2018
داڑھی کا تقدس
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
No comments:
Post a Comment