Wednesday, 7 February 2018

شہید کا لقب

" شہید کا لقب "
خبر ہے کہ
" کل سوات دھماکے میں وطن کے گیارہ اور جوان وطن کی مٹی پر قربان۔۔اللہ تعالی شہدا کے درجات بلند فرمائے اور شہدا کے اہل خانہ کو صبر جمیل عطا فرمائے امین "
اللہ سبحانہ تعالی تو اپنے وعدے پورے  فرماتا ہے ۔ شہداء کو بلند درجات ہی عطا فرمائے گا. ہم سفارش کریں یا دعا ، اللہ ہماری سن کر بلند درجہ نہیں دے گا ۔ وہ اپنے وعدے کے مطابق دے گا ۔ 
اپنےخون سے وطن کو سینچنے والوں کے ہم بھی اور وطن کی مٹی بھی مقروض ہے ۔ شہداء کے ورثاء کو شہید کے عظمت سے بہلانا محض لفاظی ہے ۔ وہ ماں کیسے صبر کرے گی جسکی گود اجڑ جائے ۔ وہ بچے صبر کے لفظ سے کیسے بہلیں گے ، جن پر یتیمی کی چادر اوڑھ دی گئی ہو ۔ جو سہاگن عین شباب میں بیوہ ہو جائے گی ، اسے صبر کی تلقین عجیب سا جملہ ہے ۔
ہم بے حس لوگ ہیں ۔ آئے دن جوانوں کے تابوت اٹھاتے ہیں ، اور سلیوٹ کرکے مٹی میں دبا دیتے ہیں ۔ اس ظلم کا ہاتھ نہیں روکتے ، جو ہمارے جوانوں کو آئے روز موت تحفے میں دیتے ہیں ۔ یہ دہشت کی لہر عام شہری سے ہٹ کر بہادر فوج کی دہلیز پر پہنچ گئی ہے ۔  لمحہ فکریہ ہے اور کھلا چیلنج ہے ، فوج کے نظام پر اور فوج کی کارکردگی پر  ۔ اگر آپ قوم کی حفاظت میں کامیاب نہیں ہو سکتے تو کم از کم اپنی حفاظت کو تو یقینی بنا لو ۔  شہید کا لقب دے کر ، تابوت پر چند پھول چڑھا کر ، ایک آدھ تمغہ دے کر اور شہید ورثاء کے سر پر ہاتھ رکھ کر کیا ثابت کرتے ہیں آپ بہادر محافظ ۔ غور کریں کہ قوم کا مورال تو پہلے سے قبر میں جا چکا ۔ کم از کم فوج کا مورال تو بچا لیں ۔ آپ تو اپنے اوپر تنقید کو غداری کہہ دیتے ہیں ۔ اور تنقید کرنے والے کو ملک دشمن کہہ کر ڈرا دیتے ہیں ۔ جو ملک کے محافظوں کو بموں سے اڑا رہے ہیں ، انکے خاتمے میں کیا حائل ہے ۔  کیا وہ غدار نہیں ، کیا ہر غدار کا خاتمہ آپ کا فرض نہیں ، کیا یہ حلف آپ نے نہیں اٹھایا کہ ہر قیمت پر ملک کی حفاظت کریں گے ۔ یا یہ سمجھ لیا جائے کہ دہشت گرد فوج سے بہتر منظم ہیں ۔ کیا سمجھا جائے ۔
شہید کا لقب تو اللہ دیتا ہے ۔ آپ اپنا فرض نبھائیں ۔لقب مت بانٹیں ۔ 
آزاد ھاشمی

No comments:

Post a Comment