" حسین ؑ کی راہ "
دنیا میں جہاں جہاں مسلمان ہیں ، کسی نہ کسی عتاب کا شکار ہیں ۔ شاید کوئی ایسا خطہ ہو جہاں جبر و استبداد کی حکمرانی نہ ہو ۔ اللہ کی بارگاہ میں کتنی دعائیں اور خشییت کے کتنے آنسو قبولیت سے محروم ہیں ۔ اگر نواسہ رسولؐ بھی کعبے کی چادر تھام کر رو رو کر دعائیں مانگنے لگتے تو شاید یزیدیت کی پہچان نہ ہو پاتی ۔ حسین ؑ کا عمل دیکھیں تو راستہ نظر آتا ہے کہ یزیدیت کی راہ روکنے کیلئے میدان کا انتخاب کرنا پڑتا ہے ۔ جرات کی ضرورت ہوتی ہے ۔ اللہ اور رسول کی سچی حب ہونا لازم ہے ۔ یہ تو حسینؑ نے بتایا کہ اگر کوئی جابر ، اقتدار کا حریص ، متاع دنیا کا پجاری اور احکام ربی کے سرکش کی بات مان لی جائے ، اسکے سامنے سر جھکا دیا جائے ، اس کی رضا پر راضی ہوا جائے تو کربلا کے دکھوں سے جان بچ جاتی ہے ، مگر دین نہیں بچتا ۔ اگر ایمان سلامت رکھنا ہے تو گردن بچانے کی بجائے کٹوانی پڑے تو کٹوا دینا رضائے ربی ہے ۔ اس راہ میں کٹی گردن ابدی زندگی ہے ۔ ایسی زندگی جسے کبھی موت نہیں آتی ۔ ایسی زندگی جس پر ایمان بھی فخر کرتا ہے ۔ جتنے بھی سجدے کرو ، جتنی بھی ریاضت کرو اگر حسینؑ کی راہ سے فرار ہے تو جبر کا پنجہ یونہی گردن دبوچے رکھے گا ۔ اس کا مظاہرہ ایک تسلسل سے جاری ہے ۔ اور تب تک جاری رہے گا ، جب تک حسینیت کو لبیک نہیں کہا جاتا ۔
یہی وہ راہ ہے جس سے ہم پہلو تہی کئے بیٹھے ہیں ۔
آزاد ھاشمی
Friday, 9 February 2018
حسینؑ کی راہ
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
No comments:
Post a Comment