" علماء ہوش میں آئیں "
ایک محقق نے پوسٹ لگائی ہے
(حرفِ عام ہے کہ
اسلامی تاریخ اپنے ابتدائی سو سال
خاموش ہے , پھر قرآن کا یوں محفوظ رہنا محض دعوٰی نہیں ؟ )
دوسرے محقق نے کمنٹس لکھے ہیں ۔
(قرآن کے محفوظ رہنے کی وضاحت درکار ہے کیا ہم مسلمانوں کے پاس اس دعوے کو ثابت کرنے کے لئے کوئی ثبوت موجود ہے )
یہ ایک علمی بحث نہیں ، ایک غلط فہمی پیدا کرنے کی کوشش کا آغاز ہے کہ قران بالکل وہی ہے جو نازل ہوا یا کوئی تبدیلی ہوئی ۔ کیونکہ پورے سو سال کا عرصہ تاریخی ابہام کا عرصہ ہے ۔
ایک بات سمجھ سے بالا تر ہے کہ کیسے مسلمان ہیں ، جو اپنے دین ، مذہب ، ایمان میں خود شکوک پیدا کرنے کے درپے ہیں ۔ یہ کیسی تحقیق ہے جو اللہ پر ، اللہ کے رسول پر اور اللہ کی کتاب میں خامیاں ڈھونڈھنے کی طرف مائل کرتی ہے ۔ اس سے کیا حاصل کرنا چاہتے ہیں یہ جاہل دانشور ۔ یہ کفار کی نمائندگی سے کیا حاصل کر لیں گے ۔ اللہ کا غضب اور قہر ۔
علماء کرام کو ان باتوں کو حماقت پہ محمول نہیں کرنا چاہئیے ، یہ مسلمانوں میں فتنہ پیدا کرنے کی کوششیں ہیں ۔ انہیں ابتداء میں روکنا ہوگا ۔
وگرنہ انکے جواب کیلئے صرف اتنا کافی ہے کہ قران کی حفاظت کا ذمہ اللہ نے خود لے رکھا ہے ۔ اسی لئے قرآن ابتداء ہی میں حفظ ہونا شروع ہو گیا تھا ۔ اور اسی وقت سے حفظ ہوتا چلا آرہا ہے ۔ ایک نقطے ، ایک زیر ، ایک زبر کی تبدیلی کے بغیر ۔
آزاد ھاشمی
No comments:
Post a Comment