Thursday, 15 February 2018

سکون صرف اللہ کی رضا میں

" سکون صرف اللہ کی رضا میں "
میں نے جب سے اسے دیکھا حیران تھا کہ پکوڑے بیچنے والا بابا اتنی اچھی اچھی باتیں کیسے کر لیتا ہے -
" بابا جی ! کیسے گزر رہی ہے "
یہ وہ سوال تھا جو میں روز پوچھتا تھا اور وہ ہر بار ایک ہی جواب دیتا تھا -
" الله کے شکر کا حق ادا نہیں کر سکتا - مزے ہی مزے ہیں "
" حیران ہوں بابا جی - سارا دن آگ اور گرمی میں پکوڑے بناتے ہیں - کیا کما لیتے ہونگے آپ " میرا سوال اسکو اچھا نہیں لگا - مجھے اپنی بے تکلفی پہ ندامت ہو رہی تھی -
" الله کی رضا پہ راضی رہنا سیکھو - پھر جو بھی ملے گا تمھاری ضرورت سے زیادہ ہو گا - دن کو چین بھی ملے گا اور رات کو نیند بھی آئیگی "
" جانتے ہو الله کی رضا کیا ہوتی ہے - کیسے ملتی ہے - کب ملتی ہے اور کس کو ملتی ہے "
مجھے لگ رہا تھا کہ میں نے غلطی کر لی ہے -
" الله بہت راضی ہوتا ہے جب خالی پیٹ رہ کر بھی اسکا شکر ہی ادا کیا جاے - پھر وہ بھوک بھی مزہ دیتی ہے - الله بہت راضی ہوتا ہے جب اسکے حبیب اور اسکے حبیب کے پیاروں سے محبت کی جاے - الله بہت راضی ہوتا جب اس کے سامنے اپنی حاجات رکھی جائیں - جب اسکی ذات پہ توکل کریں "
" بیٹا , ہم دن رات انسانوں کی رضا ڈھونڈھتے رہتے ہیں اور یہی عمل ہمیں بے سکون رکھتا ہے - ہم نے اپنی خواہشات کی پیروی شروع کر رکھی ہے - الله کے احکام کو بھول چکے ہیں - ہم نے اپنے رستوں کا تعین خود کرنا شروع کر دیا ہے - اور مادیت ہماری منزل بن گئی ہے "
ایک پکوڑے بیچنے والا یہ سوچ رکھتا ہے , میں اسکی باتیں بھی سن رہا تھا اور اسکے چہرے کو ٹکٹکی باندھے دیکھ بھی رہا تھا
" جاؤ بیٹا ! الله کی رضا کو اپنا رستہ بنا لو , سکون خود بخود پا لو گے "
آزاد ہاشمی

No comments:

Post a Comment