" رجب کے دو دن ، دو معراج "
ستائیس رجب المرجب کو اللہ سبحانہ تعالیٰ نے اپنے حبیبؐ کیلئے سواری بھیجی کہ اپنے پاس بلایا جائے ۔ مہمان کی توقیر کی حد ہوتی ہے کہ میزبان اپنی سواری بھیجے ، اپنا قاصد بھیجے کہ میرے مہمان کو ایک احترام اور توقیر سے پاس لے آو ۔ مہمان کا اتنا خیال ، کسی حکم سنانے کیلئے نہیں کیا گیا بلکہ کسی راز داری کیلئے کیا گیا ہوگا ۔ یہ رب جانے یا پھر رب کا حبیب جانے کہ اس ملاقات کا سبب کیا تھا ۔ کہتے ہیں کہ یہ رات رسولؐ کی معراج کی رات تھی ۔ میرے سطحی علم کے مطابق یہ تو ستائیس رجب کی رات کی معراج ہے کیونکہ آپؐ تو کائنات کی تخلیق سے پہلے ہی معراج پر تھے ۔ آپؐ کی معراج ہی کو آشکار کرنے کیلئے سوا لاکھ انبیاء بھیجے گئے ، کائنات کی تزئین و آرائش کی گئی ۔ یہ فطرت کا سارا حسن تو بنایا ہی اسی لئے گیا تھا کہ اللہ اپنے حبیبؐ کا مقام دکھانا چاہتا تھا ۔ ستائیس رجب المرجب کو معراج ملی کہ آپؐ کی رب سے ملاقات ہوئی ۔
رجب کی معراج ہے کہ اٹھائیس رجب کو " شہادت " کو عروج دینے کیلئے اللہ نے رسولؐ کے نواسے کو ، اپنے اہل خاندان کے ساتھ کربلا کیطرف بلا لیا ۔ رسولؐ پر بھیجا ہوا دین آبیاری چاہتا تھا ۔ خون کی ضرورت تھی ، خون بھی پاک و مطہر چاہئیے تھا ۔ پوری کائنات میں حسینؑ جیسا خون نہیں تھا ۔ کوئی نہیں تھا کہ اللہ یہ منصب اسے دیتا ۔ سو حسینؑ کو منتخب کیا کہ کربلا کیطرف روانگی کاوقت ہے ۔ اطاعت کا عروج دیکھیں کہ حسینؑ صرف تنہا روانہ نہیں ہوئے ۔ بیٹوں کو بھی ساتھ لیا، بھائیوں کو بھی ، بھتیجوں کو بھی ، بھانجوں کو بھی ، مطہر ساتھیوں کو بھی ، حد تو یہ بھی کہ پردہ دار بیبیوں کو بھی ۔ اسلئے کہ جس جس کی ، جو جو قربانی دین کو درکار ہے ، دے دی جائے ۔ اللہ کے دین کے خلاف سازش کو ایسا بے نقاب کیا جائے کہ جب بھی کوئی یزید اٹھے ، بے نقاب ہو جائے ۔
آزاد ھاشمی
٦اپریل ٢٠١٩
Saturday, 6 April 2019
رجب کے دو دن ، دو معراج "
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
No comments:
Post a Comment