Tuesday, 2 April 2019

علم کے وارث

" علم کے وارث "
تخلیق آدمؑ کے وقت بحث یہ تھی کہ شیطان سمجھ نہیں پا رہا تھا کہ اس نئی تخلیق کی ضرورت کیوں آن پڑی ۔ پھر اس تخلیق کے بعد " عزازیل " کے عہدے پہ فائز کو اس نئی تخلیق کے سامنے سجدہ کرنے کا حکم بھی ہوا تو اسے پہلے سے خبط تھا کہ اسکی تخلیق میں جو عنصر استعمال ہوا ہے وہ آدمؑ کی مٹی سے افضل ہے ۔ مگر اس دلیل پر کہ آدمؑ کو علم کی دولت دی جا رہی ہے ، جو مقام کے لحاظ سے بہت بلند ہے ۔ آدمؑ کی فضیلت علم ہے ، جس نے اسے سب کائنات میں اشرف المخلوقات بنا دیا ۔
یہ بات سمجھ لینی چاہئیے ، کہ جس علم پر فضیلت ہے ، وہ تخریبی علم نہیں ۔  اللہ کو پہچاننے ، اسکی رضا پر چلنے ،انسان کی بہتری اس انداز سے جس انداز سے خالق پسند کرے ،  یہ وہ علم ہے جس کی بناء پر انسان اشرف المخلوقات ہے ۔ ایک علم تجارت اور حصول جاہ و حشمت کیلئے ہے اور ایک علم انسان کی فلاح کیلئے ۔ پہلا علم وہ نہیں کہ جس پر انسان کو دوسری سب مخلوق پہ برتری ہے بلکہ دوسرا علم ہے جس پر اللہ انبیاء اور رسولوں کو بھیجتا ہے ۔ اس علم کی معراج پر اللہ پاک نے اپنے حبیبؐ کو مسند نشین کیا ۔ علم وراثت ہے آپؐ کی ۔ 
میرے شعور میں جب بھی یہ سوال آتا ہے کہ کہ ہر وراثت تو وارثین میں تقسیم ہوتی ہے ۔ تو آپؐ کی اس وراثت کے وارثین کون ہیں ۔ ایک بنیادی مسلہ تو آپؐ نے اپنی حیات طیبہ ہی میں طے فرما دیا کہ
" انا مدینتہ العلم و علی بابہا "
یہاں دو باتیں واضع ہوگئیں ، اول یہ کہ نبیؐ کے بعد علم کی معراج پہ علیؑ مسند نشین ہیں ۔ دوسری یہ کہ علیؑ کو حق وراثت دیا گیا ، اور علیؑ وارث نبیؐ ہیں ۔ تاریخ اسلام اور تاریخ علوم کائنات کو دیانت کے ساتھ دیکھا جائے کہ علیؑ سے علم کا سلسلہ بالترتیب اولاد علیؑ سے منسلک نظر آتا ہے ۔ جو حکمت و معرفت اولاد علیؑ سے ملتی ہے وہ کسی بھی دوسرے محقق و مفسر ، فلاسفر اور عالم سے قطعی ممکن نظر نہیں آتی ۔ یہاں یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ جو عناد شیطان کو علم سے تھا ،  وہی عناد آل رسولؐ اور اولاد علیؑ سے اقتدار کی حرص میں اندھے آل امیہ کو رہا ۔  جو سلوک علم کے ان روشن وجودوں کو ختم کرنے کیلئے جاری رہا ، آج اسی کی پاداش ہے کہ مسلمان علم و آگہی سے دور ہو گیا ۔ مسالک کی جنگ میں " امت مسلمہ " ہونے کا تصور مفقود ہو گیا ۔ گویا شیطان چاہتا تھا کہ تخریب ہو اور ابن آدم اس تخریب کا شکار ہو جائے ۔ یہی ہوا کہ تخریبی علوم کو عروج اور تعمیری علوم کو پتھر کے زمانے کی کہانیاں کہا جاتا ہے ۔  جو ننگے ہوگئے وہ مہذب ٹھہرے اور مستور ہوئے وہ احمق ۔ اگر ہم علم کے حقیقی وارثوں سے جڑے رہتے تو آج دنیا کہ بہترین امت اور اشرف المخلوقات کی تصویر ہوتے ۔
آزاد ھاشمی
یکم اپریل ٢٠١٩

No comments:

Post a Comment