" بابا جی ! آج تو مزدور کا دن ہے , آپ آج بھی پکوڑے بنانے میں
مصروف ہیں "
بابا جی نے مسکراتے ہوے میری طرف دیکھا , ماتھے سے پسینہ پونچھا اور
چولہا آہستہ کرتے ہوے بولے -
" ہاں بیٹا ! مزدور کی چھٹی کا دن نہیں , مزدور کے قتل کا دن ہے -
مزدور کا خون تو ہمیشہ بے مول بکتا رہا ہے ' آج بھی بک رہا ہے اور جب تک انسان ہے
مزدور کا خون بکتا رہے گا - مگر آج تو یاد منائی جا رہی ہے کہ ہزاروں
مزدوروں کے خون کے بہانے کے دن کی مناسبت سے - ٹھیک کہ رہا ہوں "
بابا جی نے سوالیہ نظروں سے میری طرف دیکھا -
" سرمایہ دار نے تو کبھی مزدور کے حقوق کو تسلیم ہی نہیں کیا ,
مگر یہ حکمران بھی تو انہی سرمایہ داروں میں سے ہوتے ہیں , کبھی کسی نے سوچا ہی
نہیں , کہ مزدور کی اتنی تو آمدن ہونی چاہیے کہ وہ بھی ہونے بچوں کو تعلیم دلا سکے
, بیماری میں اپنی دوائی خرید سکے , رہنے کو اپنی گھر بنا سکے - جاؤ بیٹا !ان
ننھے مزدوروں کو دیکھو جو آج بھی تپتی دھوپ میں اینٹیں بنا رہے ہونگے
- جاؤ انکے ہاتھوں پہ رستے ہوے چھالے دیکھو - انکی آنکھوں میں مرتی ہوئی خواہشات
دیکھو , جو ہر گھڑی مرتے ہیں اور پھر جینے کی سزا کاٹنے لگتے ہیں ,
کبھی انکے کے یرغمال ماں باپ کے دلوں میں جھانک کے دیکھو , ہر لمحہ شکاگو کی ریل
انکے جسموں کو روندتی ہوئی ملے گی "
میں حیران تھا کہ بابا جی کے دل میں مزدوروں کا درد اپنی
مجبوریوں سے کہیں زیادہ تھا -
" جانے دو بیٹا ! آج صرف مزدور کی چھٹی نہیں آج بھی سرمایہ دار کی
چھٹی ہے - جب بھی مزدور چھٹی کرتا ہے , سرمایہ دار کا کام رکتا ہے - اگر مزدور
چھٹی کرتا ہے تو اسکا چولہا نہیں جلتا - زندہ رہنے کیلیے چولہا جلنا ضروری ہے
"
بابا جی نے چولہا تیز کیا اور پکوڑے بنانے میں لگ گئے -
شکریہ
آزاد ہاشمی
No comments:
Post a Comment