حبیب خدا کی شان
سوچا کہ حبیب خدا کی شان بے مثال میں چند جملے لکھتا ہوں , دل سے آواز
آئ - اے بندے تیرے شعور میں وہ بلندی کہاں جو خالق کے محبوب کی شان لکھ سکے - تیری
سوچ میں وہ الفاظ کہاں جو شان مصطفیٰ کا حق ادا کر سکیں - یہ تو وہ کتاب ہے جو
قیامت تک لکھی جاتی رہے تو مکمل نہ ہو, اور تو چند جملے لکھنے کا سوچ رہا ہے - آپ
کے حسن پہ لکھے گا تو کیا لکھے گا - کہاں سے لاۓ گا ان زلفوں کی مثال , کہاں سے
لاۓ گا تبسم کے لئے الفاظ , ارے نادان جس کی چادر کی قسمیں الله کھاتا ہو , تو
اس کی شان کیسے لکھ سکے گا - ارے جس کو الله راز و نیاز کے لئے عرش پہ
بلاۓ , اسکی شان تیری سمجھ میں کیسے آی جو لکھے گا -
کیا لکھے گا اس سادگی پہ کہ پوری کائنات کا سرور ہو کر , سارے نبیوں کا
امام ہو کر بھی کھجور کے پتوں کی چٹائی کو بچھونا بناۓ رکھے -
تیرے چند جملے تیری عقیدت کی حد تک ٹھیک ہیں - لکھ لے کہ اس در پہ
قبولیت ہی ملتی ہے - مگر سوچتے رہنا کہ اسکی شان کوئی نہیں لکھ سکتا جس پہ الله
درود بھیجتا ہو اور قران میں تعریف لکھ ڈالے. جس کی رضا کو الله اپنی رضا کہے , جس
پہ درود بھیجے بغیر کوئی عبادت قبول نہ ہو -
(آذآد ہاشمی )
No comments:
Post a Comment