Saturday, 6 May 2017

امور خارجہ کی تباہی

" امور خارجہ کی تباہی "
کسی بھی ملک کے استحکام ، ترقی اور امن میں خارجہ تعلقات کی اہمیت مسلم ہے ۔ جو ملک اپنی خارجہ پالیسی میں مات کھا جاتے ہیں ، انکے دشمن ہمیشہ ان پر حاوی ہو جاتے ہیں ۔ اقتصادی مشکلات بڑھتی جاتی ہیں اور کرتے کرتے دنیا میں اکیلے رہ جانا مقدر بن جاتا ہے ۔
ہم آج اسی مقام پہ کھڑے ہیں ، کبھی شکوہ کرتے ہیں کہ عربوں نے بھارت کو ترجیحی بنیادوں پر اپنانا شروع کر دیا ہے ۔ کبھی رونے لگتے ہیں کہ ترکی ہمارا دوست ہو کر بھارت سے پینگیں بڑھا رہا ہے ۔
شکوے اور شکایات عوامی سطح پر ابھرتے ہیں , اور وہ لوگ چیختے ہیں ، جن کے دل میں وطن کا درد ہوتا ہے مگر ان کی آواز نقار خانے میں طوطی کی آواز سے زیادہ نہیں ہوتی ۔
وہ لوگ جو دیار غیر میں ہوتے ہیں , وہ گواہ ہیں کہ ہمارے سفارتی اہلکار ایک الگ تھلگ سوچ کے لوگ ہوتے ہیں ۔ کیونکہ وہ عملی طور پر زیادہ فعال نظر نہیں آتے ۔ اسکی کی وجوہات تو وہی جانتے ہیں ۔ مگر حقیقت یہی ہے ۔
اگر ان سفارتی اہلکاروں کے زخم دیکھو تو یہ لوگ عام شہری سے زیادہ دکھی ہیں ۔ شاید وہ بھی سچ ہی کہتے ہوں کہ انہیں وہ وسائل ہی مہیا نہیں کئے جاتے جن کی اشد ضرورت ہوتی ہے اور فنڈز کی مد میں دیا جانے والا سرمایہ محض ایمبیسی کو زندہ رکھنے کے لئے ہوتا ہے کام کرنے کے لئے نہیں ۔
اس سارے حقائق و واقعات سے اندازہ لگانا نہایت آسان ہے کہ ملک دشمنی کی جڑیں بہت گہرائی میں ہیں ۔ اور اسکی آبیاری ہر حکمران کرتا رہا ہے ۔
ازاد ھاشمی

No comments:

Post a Comment