Thursday, 30 May 2019

اسلامی نظام کیوں اور کیسے ؟ 13

اسلامی نظام کیوں اور کیسے ؟ (13)
گذشتہ تحریر میں ہم نے سربراہ مملکت ، قائد یا امیر کی دو ذاتی صفات کا تذکرہ کیا تھا ، جو ١۔ تزکیہ نفس ٢۔ علم اور بصیرت ہیں ۔ اسی تسلسل میں مزید چند اس تحریر میں لکھی جا رہی ہیں ۔
٣.ذہانت اورسیاسی بصیرت
ضروری ہے کہ جسے رہبری کیلئے منتخب کیا جائے ،  وہ ذہانت اورسیاسی بصیرت میں کمال کا حامل ہو، تاکہ حسن  تدبیر سے امور کو انجام سکے ، اہداف تک پہنچنے کےلیے چارہ جوئی کرے اور  امور مملکت کو درست سمت میں چلا  سکے ۔
حضرت علی علیہ السلام نے فرمایا کہ  اگر حسن تدبیر نہ ہوتو  حکومت اورحکمرانی کا نابود ہونا لازم ہے۔ اور ہم اسکا تلخ تجربہ مارشل لاء کی صورت میں بارہا کر چکے ہیں ۔
یقینا حسن تدبیر رکھنے والاحکمران کبھی پریشان نہیں ہوگا اورہر کام کو احسن طریقے سے انجام دے گا ۔ اس شرط کی اہمیت عصرحاضر میں زیادہ روشن ہوجاتی ہے جہاں داخلی اورخارجی دشمنوں اورایجنسیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے اورحسن تدبیر سے آراستہ حاکم کبھی مغلوب نہیں ہوتا اور بہت سی مشکلات کے مقابلے کے وقت اپنے حواس اورنفس قابو رکھ سکتا ہے ۔ ہم نے عملی طور دیکھا کہ ہمارے اکثر حکمران بیرونی دباو کے سامنے گٹنے ٹیک دیتے ہیں اور ہمیشہ ملکی مفاد کے خلاف کام کر گذرتے ہیں ۔
٤ ۔ ریاست طلبی سے پرہیز
ریاست کی خواہش کرنا  نفسانی خودغرضی اور حرص ہے ۔ جو حکمران کا عیب ہے ۔
حضرت علیؑ کا قول ہے حاکم بننے کی خواہش  دل  کے فاسد ہونے کی نشاندہی کرتی ہے اور اس خواہش کی شدت دین اورحکومت کی نابودی کا سبب بنتی ہے ۔
ہم نے اسکا تجربہ بھی کیا کہ ہمارے مروجہ جمہوری طریقے سے اقتدار تک پہنچنے کیلئے ، کیسے کیسے اخلاق باختہ طریقے اپنائے جاتے ہیں ۔ عوام میں نفرت کو ہوا دے کر امن برباد کیا جاتا ہے ۔ جھوٹ اور افتراء پر گمراہ کیا جاتا ہے ۔ کردار کشی عام رویہ بن جاتی ہے ۔
اسلامی طرز انتخاب میں شوریٰ کیلئے لازم ہوتا ہے کہ وہ اس خامی پر خصوصی نظر رکھے ، کیونکہ اس فطرت کا جو بھی شخص کرسی اقتدار پہ بیٹھ جائے گا ، وہ اپنے اقتدار کو طول دینے اور اسے اپنے اقرباء تک محدود کرنے کی علت کا شکار ہو جائے گا ۔ جس سے مملکت کے مفادات مجروح ہوتے رہیں گے ۔
۔۔۔۔ جاری ہے ۔۔ ملاحظہ ہو قسط ١٤ ..
آزاد ھاشمی

No comments:

Post a Comment