اسلامی نظام کیوں اور کیسے ؟ (12)
ہم نے شوریٰ کے اراکین کے ابتدائی مرحلے اور کردار پر ایک مختصر سا جائزہ لیا ہے ۔ جو سربراہ مملکت ، امیر مملکت یا جو بھی نام دے لیا جائے ، اسکا انتخاب کرے گی ۔ شوریٰ سے منتخب شدہ یہ فرد قیادت اور رہبری کی ذمہ داری پوری کرے گا ۔
قیادت عربی زبان کا لفظ ہے جو قود سے لیا گیا ہے یعنی کسی کے آگے چلنا ،رہبری اور راہنمائی کرنا وغیرہ، جیسے کہا جاتاہے، قیادۃ الجیش یعنی لشکر کی کمانڈاوررہبری کرنا یا قائد الجیش یعنی آرمی کمانڈروغیرہ جو ایک آرمی کا کمانڈر،راہنما اوررہبرہوتا ہے ۔ اسی طرح سربراہ مملکت بھی عوام کی قیادت کرتا ہے ۔ یہاں ہم ان شرائط کو دیکھیں گے جو قیادت کیلئے مشروط ہیں ۔ یعنی شوریٰ محض اکثریت رائے سے سربراہ مملکت منتخب نہیں کر لے گی بلکہ انکے سامنے واضع شرائط ہیں جن پر پورا اترنے والا ہی سربراہ مملکت بننے کا اہل ہوگا ۔ ہم ان شرائط کو اختصار کے ساتھ ایک ایک کر کے دیکھیں گے ، تاکہ کوئی ابہام نہ رہے ۔
پہلے مرحلے پر " ذاتی صفات " پر غور کرتے ہیں ۔
۱):تذکیہ نفس
تذکیہ نفس کے موضوع کو اللہ نے گیارہ قسمیں کھانے کے بعد ذکر کیا ہو
قدافلح من زکّٰھا وقدخاب من دسّٰھا؛
کہ سعادت اورکامیابی صرف اس کا مقدر بنے گی جو تذکیہ نفس کے زیور سے آراستہ ہوگا اس کی اہمیت میں ذرہ برابرشک کی گنجائش نہیں رہتی۔تذکیہ نفس ہر انسان کے لیے ضروری ہے لیکن ایک رہبر اورراہنما کے لیے اس کی ضرورت اوراہمیت دوسروں کی نسبت بڑھ جاتی ہے کیونکہ انسان کی زندگی نشیب وفرازکا نام ہے اورتذکیہ نفس انسان کو اس سعادت اورشقاوت کے نشیب وفراز سے ڈھکی وادی سے نکال کر سعادت کے ساحل پر لاکھڑا کرتا ہے کیونکہ انسان کا نفس ایک سرکش گھوڑے کی مانند ہے اگر تذکیہ نفس کے تازیانوں سے رام نہ کیا جائے تو انسان کے دامن میں بدبختی اورتباہی کے سوا کچھ حاصل نہ ہوگا خصوصا ایک رہبر اورراہنما کے لیے کہ جس کے کاندھے پر اپنے بوجھ کے ساتھ عوامی قافلے کی مہار بھی موجود ہے۔
یاد رہے کہ معاشرتی زندگی کی سعادت میں قانون نافذ کرنے والوں کی لیاقت اوراہلیت خود قانون کی نسبت زیادہ موثر اوراثرانداز ہوتی ہے ۔ یہاں جمہوریت سے تقابل کریں تو معاملات متضاد نظر ْآتے ہیں ۔
٢ ۔ علم وبصیرت
ایک رہبر اورراہنما کے لیے علم وبصیرت شرط ہے اوراسلامی تعلیمات میں اس کو ایک اصل کے طورپرقبول کیاگیا ہے اورمختلف مقامات پر اس بات کی طرف اشارہ بھی کیا گیا ہے کہ حکومتی امور ان اشخاص کے ذمہ لگائے جائیں جو ان کی اہلیت اورقابلیت رکھتے ہوں۔
ہم ایک تلخ تجربے سے گذرے ہیں کہ ہمارے جتنے بھی رہنماء کرسی اقتدار پہ بیٹھے ، وہ نہ تو تزکیہ نفس کی شرط پر پورے اترے اور نہ ہی علمی بصیرت پر ۔ چونکہ جمہوری نظام میں پیمانہ اہلیت نہیں ووٹ ہے اور ووٹ دینے والے کا کوئی معیار نہیں ۔ اسلئے اسلامی نظام زیادہ بہتر ہے کہ سربراہ اور قائد پر شرائط لاگو ہیں ، جن کا تعلق کردار اور معاملہ فہمی سے ہے ۔
۔۔۔ جاری ہے ۔ ملاحظہ ہو قسط ١٣ ۔۔
آزاد ھاشمی
٢٧ مئی ٢٠١٩
Tuesday, 28 May 2019
اسلامی نظام کیوں اور کیسے؟ 12
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
No comments:
Post a Comment