"اسلامی نظام کیوں اور کیسے ؟ (15)
یہ واضع کرنے کیلئے شوریٰ کیلئے کھلی چھٹی نہیں ہے کہ جس کو چاہے سربراہ مملکت منتخب کر لے ۔ بلکہ اسے لازم ہے کہ ان شرائط پر انتخاب کرے ، جو مقرر ہیں ۔ ہم نے ابھی تک چھ ایسی صفات کا ذکر کیا ہے ، جو سربراہ کے کردار کا لازم حصہ ہیں ۔ چند مزید کا تذکرہ درج ذیل ہے ۔
٧۔ حسن سابقہ
اگر کسی کا ماضی اس کے برے اعمال ،ظلم وستم ،خیانت اورفریب کو آشکارکرنے والا ہے تو وہ رہبری اورقیادت کے لائق نہیں ہے۔ ایسے افراد تلاش کرو جو فکری حوالے سے قوی اورمعاشرے میں جانی پہچانی شخصیات ہوں جنہوں نے کسی ظالم کی مددنہیں کی ایسے لوگ تیری نسبت مھربان تر ہوں گے ۔
کیا خیال جمہوریت میں رکھا جاتا ہے ؟
٨۔ سادگی کے ساتھ زندگی بسر کرنا
پر تعیش زندگی کا خواب دیکھنے والا ، یا ایسے ماحول کا عادی شخص ، جب بھی اقتدار کی کرسی پہ بیٹھے گا اور حکومتی وسائل اسکی دسترس میں آ جائیں گے تو وہ ہر معاملے میں اسراف سے کام لے گا ۔ اسلام میں سربراہ مملکت کیلئے اس سے متضاد طریقہ اختیار کیا جاتا ہے ۔ سادگی اور قناعت پسندی کی حامل شخصیت کو ترجیح دی جاتی ہے ، کیونکہ رہبری اورحکمرانی کے عہدے کو قبول کرنے سے ذمہ داریوں میں بھی اضافہ ہوجاتا ہے جس کیلئے لازم ہے کہ وہ نچلے طبقہ کی طرح زندگی گزارے تاکہ ان کے درد کو سمجھ سکے اورپھران کی مشکلات کو دورکرنے کی کوشش کرسکے ۔
٩۔ :شجاعت اورپایداری
رہبر کی صفات میں سے جس کی اپنی جگہ پر بہت اہمیت ہے شجاعت اورمستحکم ارادہ ہے ۔ کیونکہ شجاعت ایسی خوبی ہے جو کسی دباو کے تحت مصلحت اندیشی سے روکتی ہے ۔
اسی طرح اگر حکمران اوررہبر مستحکم ارادہ کا مالک ہوگا تواپنی حکمرانی اورحکومت کے تمام ایام اورخصوصا مشکل دنوں میں اپنی پالیسیوں کو واضح اوربلاروک ٹوک جاری کرسکتا ہے جس کااچھا اثر نہ صرف عوام پر پڑے گا بلکہ اس کے حکومتی ڈھانچہ میں بھی کوئی تزلزل پیدا نہیں ہوگا ۔
۔۔۔ جاری ہے ۔۔ قسط ١٦ ملاحظہ ہو ۔۔
آزاد ھاشمی
یکم جون ٢٠١٩
Sunday, 2 June 2019
اسلامی نظام کیوں اور کیسے؟ 15
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
No comments:
Post a Comment