Tuesday, 21 August 2018

شناخت

" شناخت "
سیاسی اختلافات اپنی جگہ ، نظریاتی اختلافات کا بھی سب کو حق ہے ۔ مگر یہ اختلافات ایک دائرے کے اندر اچھے لگتے ہیں ۔ بد گوئی اور بد کلامی انسان کی اپنی شناخت ہوتی ہے ۔ اخلاق انسان کی شان ہے ۔ جب بھٹو نے پیپلز پارٹی کی بنیاد رکھی تو اس نے " مودودی ٹھاہ " کا ایک نعرہ متعارف کرایا ۔ صاحب شعور اسکی اس حرکت پر ہمیشہ اس سے نالاں رہے ۔ تیسری دنیا کا لیڈر ہونے کے باوجود وہ اس کا تاثر ختم نہیں کر سکا ۔ کچھ عرصہ جیالے بھی اسی رستے پر چلتے رہے ۔ اس انتخاب سے پہلے اور خاص طور پر اس انتخاب میں ، پیپلز پارٹی دوسری تمام پارٹیوں سے اخلاقی طور پر بہتر رہی ۔ سوشل میڈیا پر اپنا مافی الضمیر اچھے پیرائے میں بیان کیا ۔  جس سے انکی سیاسی پختگی کا تاثر ملتا ہے ۔ حالانکہ پیپلز پارٹی کے نقصانات دوسری جماعتوں سے کہیں زیادہ تھے ۔
تحریک انصاف نے اپنی شناخت جس لبرل انداز میں کرائی ، وہ کوئی قابل ستائش طریقہ نہیں تھا ۔ بازاری زبان ، غیر شائستہ حرکات اور نا پختہ طرز تنقید نے ایک منفی تاثر قائم کیا ، جو ہمیشہ انکی پہچان بنا رہے گا ۔ انکی انتخابات کی کامیابی غیر یقینی ہو جاتی ، اگر مسلم لیگ (ن) کے جیالے اپنی اخلاقی حدود پار نہ کرتے ۔ جماعت اسلامی کر اراکین نے آغاز میں تنقید کی اور سلجھے انداز سے کی ۔ پھر وہ بھی رفتہ رفتہ پٹڑی سے اترتے گئے ۔ آج کسی بھی تنقید پر جو بیہودگی کا مظاہرہ جماعت کے لوگ کرتے ہیں ۔ اس شدت کا اظہار کوئی دوسری پارٹی نہیں کرتی ۔ تعجب اس وقت ہوتا ہے جب جماعت کے منظم اور سلجھے ہوئے لوگ فوج پر اپنی منفی رائے زنی کرتے ہیں ۔ اداروں پر منفی رائے زنی نے جو منفی تاثر قائم کر دیا ہے ، اگر یہ برقرار رہا تو عوام  تحریک انصاف کیطرف سے کی جانے والی بیہودگی کو بھول جائیں گے ۔
تمام سیاستدان ، جن پر کرپشن کے الزامات تھے ، وہ سب مل کر اداروں کو نشانہ بنا رہے ہیں ۔ جسے کوئی بھی محب وطن پسند نہیں کرے گا ۔ نتیجہ کیا ہو گا ۔ کہ ساری پارٹیاں منفی سوچ کیوجہ سے رہی سہی مقبولیت کا بھی جنازہ نکال لیں گی ۔ آج کوئی بھی تنقید کرو ، جماعت کے لوگ اسے فوج کیطرف گھسیٹ لیتے ہیں ۔ یہی کام مسلم لیگ والے کرتے ہیں ، یہی کام عوامی نیشنل پارٹی کرتی ہے وغیرہ ۔
کسی بھی جماعت کی شناخت اہم ہوتی ہے ۔ اسطرف سب کو توجہ کی ضرورت ہے ۔
آزاد ھاشمی
١٢ اگست ٢٠١٨

No comments:

Post a Comment