" کوئی لیاقت بلوچ کی بھی سنے "
کچھ لوگوں پر بہت ترس آتا ہے کہ بیچارے ساری زندگی سیاست میں برباد کر کے بھی آخرت میں
" نہ خدا ہی ملا نہ وصال صنم "
پاکستان کی سیاسی تاریخ میں ایسے بیشمار کردار ہیں ، جو اللہ کی عبادت کو چھوڑ کر جمہوری عبادت کرتے رہے ۔ بالآخر بیوفا عوام نے بھی انہیں
" کھڈے لائن " لگا دیا ۔ اب وہ بولتے رہتے ہیں اور کوئی سنتا ہی نہیں ۔ اللہ کیطرف انہوں نے توجہ نہیں کی ، اب اللہ انکی نہیں سن رہا ۔ بہت ٹکریں مارتے ہیں کہ شاید کوئی حکمرانی کی سیٹ مل جائے ۔ اگر نہ ملے تو درباری ہی بن جائیں ۔ اسوقت ایسے کرداروں میں انتہائی قابل توجہ شخصیات محترم جاوید ہاشمی ہیں اور دوسرے نمبر پر محترم لیاقت بلوچ ہیں ۔ پہلے یہ صاحبان بولتے تھے ، لوگ توجہ سے سنتے تھے ۔ اب بولتے ہیں تو لوگ سنتے بھی نہیں اور طرح طرح کے القاب بھی دیتے ہیں ۔ چلیں مخالف پارٹیوں کے لوگ تو بولا ہی کرتے ہیں ، اب انکی اپنی پارٹی کے لوگ بھی نہیں سنتے ۔ اقتدار کی " ھما " شاید اندھی بھی ہے ، بہری بھی اور گونگی بھی ۔ کہ کبھی ممنون حسین کے سر پہ جا بیٹھتی ہے ، کبھی چوہدری فضل الہیٰ اور شاید اب کے بار " علوی " صاحب کے سر بیٹھ جائے یا " چوہدری اعتزاز " کے سر پہ ۔ کمال تو یہ ہے کہ اتنے قد کاٹھ کے سیاستدانوں کو چھوڑ کر اگر " تونسہ " کا ایک گمنام " وزیر اعلیٰ " بن جائے تو ان کے دلوں میں " ہوک " تو اٹھے گی ۔ اب یہ درد ناک ہوک ، لیاقت بلوچ کے دل سے اٹھ رہی ہے ۔ موصوف بہت صبر کرتے ہیں کہ کچھ نہ بولیں ۔ جماعت والے بھی کہہ رہے ہیں کہ صاحب صبر کریں ۔ مگر وہ کسی نہ کسی سیاق و سباق میں سوشل میڈیا پہ اپنے دکھ کا اظہار کر ہی لیتے ہیں ۔ ساری زندگی ایک بھرم تھا کہ موصوف صاحب علم و شعور ہیں ۔ مذہب سے جڑے ہوئے ہیں ، اسلامی نظام کے نفاذ کیلئے زندگی وقف کئے بیٹھے ہیں ۔ اب کے یہ بھرم بھی ٹوٹ گیا ۔
کچھ بھی ہے ، عمر کے اس حصے میں لگی چوٹ بہت خطرناک ہوتی ہے ۔ قوم رحم کرے ، انکو اقتدار نہ سہی ، انکی باتوں پہ " واہ واہ " تو کرتی رہے ۔ تاکہ اگلا سفر تو سکون سے گذار لیں ۔
آزاد ھاشمی
٢١ اگست ٢٠١٨
Wednesday, 22 August 2018
کوئی لیاقت بلوچ کی بھی سنے
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
No comments:
Post a Comment