" بلال حبشیؓ"
سنا ہے کہ رنگت کالی تھی ، ہونٹ بھی موٹے تھے ، بولنے پہ بھی کمال نہیں تھا ۔ سنا ہے کہ حسن نام کی کوئی بھی میراث نہیں تھی اسکی ۔ بکتے بکتے مکہ میں آیا تھا ۔ غلام تھا ، نہ کوئی خواہش رکھ سکتا تھا ، نہ کوئی تقاضا کرنے کا حق تھا ۔ نہ سونے پر اختیار ، نہ استراحت کرنے کے چند لمحے نصیب ۔ مالک نے دے دیا تو کھا لیا ، نہ دیا تو مانگا نہیں ۔ بے بسی کی انتہا والے اس شخص کا نام " بلال " تھا ۔ حبشہ سے لایا گیا تھا ، مالک " بلال " کہہ کر بلانے میں بھی خوش نہیں تھا ۔ " حبشی " ہی اسکا نام تھا ، حبشی ہی اسکی پہچان ۔
کون جانے کہ یہ پتھر نہیں تھا ، ہیرا تھا جسکی تراش خراش ہو رہی تھی ۔ جسے روپ دیا جا رہا تھا کہ اللہ اپنے حبیبؐ کے جلو میں ایک اور ستارہ شامل کر دے ۔ کون جانے کہ اسکا حسن پہچاننے والی آنکھ ، اللہ کے سب سے بلند نبی کے پاس تھی ۔ کس کو خبر کہ اسکا حسن پہچاننے کیلئے خاص آنکھ کی ضرورت تھی جو کسی کافر کے پاس ہو ہی نہیں سکتی تھی ۔ کون جانے کہ اللہ کی توحید کا سب سے پہلے اعلان اسی زبان سے ہو گا ۔ کسے خبر تھی کہ مسجد نبوی کی چھت سے پہلی اذان " ش کو س " پڑھنے والے کی زبان سے ادا ہو گی ۔ بلالؓ جو غلام تھا ، اب صحابہؓ بھی " سیدی " کہنے لگیں گے اور قیامت تک " سیدی بلالؓ" ہی پکارا جائے گا ۔ جو اللہ کے حبیبؐ کی آنکھ کو بھا گیا ، وہ کیسے کائنات کا تارہ نہ بنتا ۔ اب پورے عرب میں اتنا حسن کس کے پاس تھا جو بلال جیسی قسمت پا لیتا ۔ روایت ہے کہ صحابہؓ نے پوچھا ۔
" یا رسول اللہ ! جنت میں سب سے پہلے کون داخل ہوگا ؟ "
فرمایا
" بلالؓ "
پھر صحابہؓ نے پوچھا
" آپؓ سے بھی پہلے ؟ "
فرمایا
" ہاں مجھ سے بھی پہلے ، کیونکہ میری سواری کی باگ بلال کے ہاتھ میں ہوگی جو پکڑے ہوئے داخل ہو گا "
اب کون کہے گا کہ وہ حسن میں مات کھا گیا تھا ، کون سوچے گا اسکا رنگ کالا تھا ، کون سوچے گا کہ اسے عربی لہجہ نہیں آتا تھا ۔ کون ہے جو بلالؓ کی قسمت پر رشک نہیں کرے گا ۔
آزاد ھاشمی
٥ جنوری ٢٠١٨
Tuesday, 21 August 2018
بلال حبشیؓ
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
No comments:
Post a Comment