" ایک جہاد اور "
ایک التجا کرنا چاہتا ہوں ، اپنے ان دوستوں اور لکھنے والوں سے ، جو کسی ذاتی غرض کے بغیر لکھتے ہیں ۔ جو سیاسی عینک پہنے بغیر لکھتے ہیں ۔ جن کو وطن اور قوم سے ہونے والی کسی زیادتی پر دکھ ہوتا ہے ۔ جو وطن کو ترقی کی طرف گامزن دیکھنا چاہتے ہیں ۔ جنہیں دانشوری کا رعب جمانے کا خبط نہیں ہے ۔ جو درد محسوس کرتے ہیں اور درد کا ازالہ چاہتے ہیں ۔
عرض یہ ہے کہ ہمارے معاشرے کا ناسور کچھ دانشور بھی ہیں ۔ کچھ صحافی بھی ہیں ۔ جو سب خبر ہونے کے باوجود مفادات کیلئے لکھتے ہیں ۔ ایک دانشور اور صحافی اگر کسی خاص پارٹی یا خاص طبقے کی حمایت پر میدان میں اتر آتا ہے تو وہ اصل بیماری ہے ، کیونکہ صحافی اور دانشور کی کوئی پارٹی نہیں ہوتی ، کوئی سیاسی وابستگی نہیں ہوتی ۔ وہ صحافی اور دانشور گندی مچھلی ہے ، جو تالاب میں رہی تو سارے تالاب کو گندہ کرے گی ۔ اسوقت ایسے دانشوروں اور صحافیوں سے قوم کو نجات دلانا بہت ضروری ہو گیا ہے ۔ یہ وہ لوگ ہیں جو خبر ہی نہیں ہونے دیتے کہ سچ کیا ہے اور جھوٹ کیا ۔ بے خبر لوگ انکی خبروں ، تجزیوں اور تبصروں کو اپنا راہ عمل بنا لیتے ہیں ۔ یہاں سے فساد شروع ہوتا ہے ۔ ان دانشوروں اور صحافیوں کی راہ روکنے کیلئے قانونی ، آئینی اور معاشرتی حد بندی ہو جانی چاہئے ۔ قوم کو غلط اطلاع دینا ، جرم ہونا چاہئیے اور وہی سزا ملنی چاہئیے جو اسلام نے ایک تہمت لگانے اور بہتان باندھنے والے کیلئے مقرر کی ہے ۔ قوم کو ایسے دانشوروں اور صحافیوں کا مقاطعہ کرنا چاہئے ۔ ان کے اثاثہ جات کی بھی تفتیش ہونی چاہئے ۔ حکومت کیا کرے گی یا کیا نہیں کرے گی ۔ اس مخمصے میں جائے بغیر ، مخلص اور محب وطن لکھاریوں کو اس بارے ہر ممکن کوشش کرنی چاہئے ۔ یہ ملک اور قوم کی خدمت ہے ۔ وطن اور قوم کیلئے کی گئی ہر خدمت " جہاد " ہوتی ہے ۔
آزاد ھاشمی
٢٢ اگست ٢٠١٨
Tuesday, 21 August 2018
ایک جہاد اور
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
No comments:
Post a Comment