" غیر متناسب تنخواہیں اور مراعات "
پاکستان کی معیشت پر ایک بڑا بوجھ غیر متناسب تنخواہیں اور مراعات ہیں ۔ جب تک اخراجات اور آمدن میں توازن نہ ہو ، معیشت کبھی مثبت رخ اختیار نہیں کر سکتی ۔ اخراجات کو پورا کرنے کیلئے قرضے لینا ، معیشت کی بحالی نہیں بلکہ تباہی ہے ۔ اخراجات کو اس سطح پر لے آنا ، جہاں اپنے وسائل سے پورا کیا جاسکے ، معیشت کیطرف مثبت قدم ہے ۔ یہی وہ کام ہے جو ہمیں اسلام رینمائی کرتا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام میں سادگی کیطرف خصوصی توجہ دی گئی ۔ ہمارے ملک کا سیاسی طرز بھی عجیب ہے ۔ صدر بھی ہے اور وزیر اعظم بھی ، گورنر بھی ہے اور وزیراعلیٰ بھی ۔ تجربات کے مطابق اگر صدر طاقتور ہوتا ہے تو وزیراعظم برائے نام ، جیسے زرداری اور گیلانی ۔ اگر وزیراعظم طاقتور ہوتا ہے تو صدر مٹی کا مادھو ، جیسے نواز شریف اور ممنون حسین ۔ آخر ان دو عہدوں پر کروڑوں روپے کیوں خرچ کرنا ضروری ہے ۔ اسمبلی ممبران کو دی گئی تنخواہیں اور مراعات کیوں ؟ کس قابلیت کی بناء پر ؟ کس خدمت کے عوض ؟ استاد کی تنخواہ اتنی کہ وہ اپنے بچوں کی تعلیم تو درکنار انکی کفالت نہیں کر سکتا ۔ جبکہ ملکی تعمیر میں سب سے کلیدی کردار استاد کا ہوتا ہے ۔ پولیس کے سپاہی کے پاس چارہ ہی نہیں کہ وہ رشوت کے بغیر اپنے بچوں کو روٹی دے سکے ، اور یہ شہادت بھی ہمیشہ ان چھوٹی پوسٹ کے لوگوں کے مقدر میں لکھی ہوتی ہے ۔ بڑے افسران شاذ ہی شہید ہوتے ہیں ۔ سیاستدانوں کے پروردہ افسران کی موج ، جبکہ انکی کارکردگی ہمیشہ سیاسی ہوتی ہے ۔ ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ ڈاکٹر کو صرف اتنی تنخواہ کہ وہ زندہ رہ سکے ، جبکہ ایک جسٹس کو آٹھ ڈاکٹروں کے برابر تنخواہ بھی ، ریٹائرمنٹ پر مراعات اور پنشن بھی چار سپیشلسٹ ڈاکٹروں کے برابر ۔ جنرل ڈیوٹی پر بھی موج ہی موج میں اور محاذ جنگ پہ سپاہی کو وہی روایتی نان نفقہ ۔ جنرل ریٹائر ہو کر بھی سفیر اور سپاہی وہی ایک آدھ ایکڑ زمین کا کسان ۔ کیا ان اخراجات میں توازن نہ ہونا ، معیشت پر غیر ضروری بوجھ نہیں ؟ اس بوجھ کو کون اٹھاتا ہے ؟ کمر کس کی ٹوٹتی ہے ؟ یہ سارے اخراجات ہر پاکستانی سے وصول کئے جاتے ہیں ۔ یہ سزا جسے ٹیکس کہا جاتا ہے ، انہی عیاشیوں کیلئے لیا جاتا ہے ۔ تاکہ مراعات یافتہ طبقہ خوش و خرم رہے ۔ اس میں اعتدال نہ ہوا تو معیشت یونہی ڈگمگاتی رہے گی ، بھلے دو تین عمران خان ہی کیوں نہ آ جائیں ۔
آزاد ھاشمی
١٣ اگست ٢٠١٨
Tuesday, 21 August 2018
غیر متناسب تنخواہیں اور مراعات
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
No comments:
Post a Comment