Saturday, 25 August 2018

کیا انتخابات ابھی جاری ہیں؟

" کیا انتخابات ابھی جاری ہیں ؟ "
یہ سوال اسلئے کیا ہے کہ ابھی تک احمقوں کی دنیا میں وہی کھلبلی ہے جو انتخابات سے پہلے تھی ۔ ویسی ہی بے سروپا اور کردار کشی والی پوسٹ لگائی جا رہی ہیں ۔ جن سے ووٹروں کے فیصلوں پر اثر انداز ہوا جاتا ہے ۔ عمران خان سے دشمنی کرنے والے ، عمران خان سے جنگ جاری رکھیں ۔ مسلم لیگ کے دشمن مسلم لیگ قیادت کو نشانہ بناتے رہیں ، جماعت والے بھی حسب عادت اسلام پھیلاتے رہیں ۔ مگر ان سب کی حدود متعین کر لیں ۔ عمران خان کی بہترین دشمنی یہ ہے کہ اسے وطن کے مفادات کے خلاف ایک قدم نہ اٹھانے دیا جائے ۔ جہاں وہ ایسا کرنے لگے اسکے سامنے دیوار بن کر کھڑے ہو جائیں ۔ مسلم لیگ نے جرم کیا ہے اسے قانون کے مطابق دیکھا جائے ، سیاسی انتقام نہ لیا جائے ۔ جماعت جہاں اسلامی نظام کے دائرے سے نکلنے لگے اسے روکا جائے ، وغیرہ وغیرہ ۔
خدارا ! جو ملک کے مفاد میں کچھ بہتر ہوتا نظر آئے ، اس کو شکوک و شبہات کیطرف مت دھکیلا جائے ۔ یاد رہے کہ عمران یہودی ہے یا مسلمان ، صرف یہ دیکھیں کہ وہ جو کر رہا ہے اس سے یہودیت کو فروغ مل رہا ہے یا اسلام کو ۔ وہ نشہ باز ہے ، صرف یہ دیکھیں کہ وہ نشہ باز ہونے والے کام کرتا ہے یا ہوش و حواس والے ۔ بھٹو نے کہا تھا " شراب پیتا ہوں ، کسی کا خون نہیں " اسے تو " امر " کر دیا گیا ۔ عمران خان نے تو اعلان نہیں کیا کہ نشہ کرتا ہوں ، اس پر تو ثبوت نہ ہونے تک الزام ہے ۔ کیا ان سب کاوشوں سے وہ وزیراعظم کی کرسی سے الگ کیا جا سکے گا ؟ اس ساری تحریک کے فعال کارکن ، بد گمانی پھیلا کر قوم کو گمراہی کیطرف دھکیل رہے ہیں ۔ جو گذشتہ حکومتوں نے برائی کی ، اب اس پر کیچڑ اچھالنے سے کیا حاصل ہو گا ۔ ایک قوم بن کر جو اچھا فعل ہے اسکی پذیرائی کرنی چاہئیے ، جو برا ہے اس سے اجتناب کرنا چاہئیے ۔ یہ سیاسی پارٹیاں ، یہ سیاسی قائدین کسی کے نہیں ہوتے ۔ اپنے آپ کو ان سے منسوب کر لینا تہذیب کے منافی ہے ۔ معیار اچھائی اور برائی ہوتا ہے ۔ ایک مہذب آدمی کو فیصلہ کرنا ہوتا ہے کہ وہ اچھائی کے ساتھ کھڑا ہو گا یا برائی کے ساتھ ۔ ایک محب وطن کو یہ دیکھنا ہوتا ہے کہ کونسا کردار وطن کے مفاد میں ہے اور کونسا وطن کے منافی ۔ یوں قومیں بنتی ہیں ۔ یوں اچھے لوگ آگے آتے ہیں اور قوموں کی تقدیر بدلتے ہیں ۔
بے شعور پوسٹ پر واہ واہ کرنے سے ملک کی تقدیر نہیں بدلے گی ۔ ہمیں ہر اس محقق کی حوصلہ شکنی کرنی چاہئے جو فساد کیطرف کھینچ رہا ہے ۔ اللہ نے جو شعور دیا ہے ، اس کو استعمال کرنا چاہئے کہ کیا غلط ہو رہا ہے اور کیا صحیح ۔
آزاد ھاشمی
٢٥ اگست ٢٠١٨

No comments:

Post a Comment