Sunday, 26 August 2018

پانچ لاکھ میں تشدد کی اجازت

" پانچ لاکھ میں تشدد کی اجازت "
تحریک انصاف کی ڈسپلنری کمیٹی نے ڈاکٹر عمران شاہ کو ایک بزرگ شہری کو سرعام کئی تھپڑ رسید کرنے اور اسکی عزت کا جنازہ نکالنے پر پانچ لاکھ روپے جرمانہ اور بیس مستحق مریضوں کا مفت علاج کرنے کا حکم دیا ہے ۔
ایسے شرمناک فیصلے " سکھا شاہی " فیصلے کہلاتے ہیں ۔  ایسے فیصلوں پر عش عش کرنے والوں کی بے حسی کا منہ بولتا ثبوت ہے ۔ دعا گو ہوں کہ فیصلہ کرنے والی کمیٹی  اور اس فیصلے کو سراہنے  والوں کے بزرگوں کی بھی سر عام ایسی ہی دھنائی ہو اور انہیں یہ احساس ہو کہ غریب کی عزت میں اور امیر کی عزت میں کوئی فرق نہیں ہوتا ۔ تحریک انصاف نے اگر ایسے ہی " انصاف " جاری رکھے تو اللہ کی لاٹھی بہت جلدی برسے گی ۔ یہ سب کچھ تو پہلے سے ہوتا آیا ہے کہ امیر کسی بھی غریب کی عزت اور توقیر کو برباد کرکے چند سکوں سے خرید لیتا ہے ۔ اب بھی یہی ہو گا تو کہاں کا انصاف ، کہاں کا عدل اور کہاں کے دعوے ۔ اے کاش ! کسی دہشت گرد کے باپ کو یہ تھپڑ پڑے ہوتے اور انصاف از خود ہو چکا ہوتا ۔ ایک کمزور اور شریف النفس تو چپ رہے گا مگر اسکے دل سے اٹھی ہوئی ہوک رب کی ذات ضرور سنے گی ۔ جنہوں نے فیصلہ کرکے انصاف کا مذاق کیا ہے ، اللہ تعالیٰ انکو بھی سزا ضرور دے گا ۔ اے کاش ! مدینہ کی ریاست کی طرز حکومت قائم کرنے والوں کو علم ہوتا کہ ایسے جرم معاشرے میں کتنے سنگین ہوتے ہیں اور انکی سزا کمیٹی نہیں اسلام طے کرتا ہے ۔ اسکی سزا آنکھ کے بدلے آنکھ اور کان کے بدلے کان ہے ، نہ کم نہ زیادہ ۔
کمیٹی کا کونسا رکن ہے جو پانچ لاکھ روپے میں اپنے باپ کے منہ پر سر عام تھپڑ مارنے والے سے لینے کو تیار ہو گا ؟
یہ فیصلہ تضحیک ہے انصاف کی ، تضحیک ہے انسانیت کی اور اعلان ہے کہ آج بھی طاقتور کا راج ہے ۔ غریب جیسا کل تھا ویسا ہی آج ہے ۔
آزاد ھاشمی
٢٥ دسمبر ٢٠١٨

No comments:

Post a Comment