" غلطی ہوگئی "
کوئی دانشور بتائے گا کہ غنڈہ گردی کیا ہوتی ہے؟ میں چھیاسٹھ سال کی عمر میں یہی سیکھ سکا کہ کسی شریف کی سر بازار توہین کرنا ، پگڑی اچھالنا ، کسی کے بنیادی حقوق پر زور زبردستی کرنا ، غنڈہ گردی ہے ۔ کسی کمزور کو زد و کوب کر دینا ، غنڈہ گردی کی اگلی شکل ہوتی ہے ، اور اسے بدمعاشی کہا جاتا ہے ۔ کیا میری یہ سوچ درست ہے یا اس میں کوئی تبدیلی چاہئے ؟؟ پوچھنا اس لئے چاہتا ہوں کہ آئندہ محتاط رہا جائے ۔ مجھ سے ایک فاش غلطی ہوئی کہ میں نے ایک ایسے ہی شخص کو " غنڈہ " سمجھ لیا جس نے ایک شہری کے منہ پر سرعام تھپڑ مارے تھے ۔ موصوف ایک ایسی سیاسی پارٹی کے ایم پی اے ہیں ، جو ملک میں ہر برائی کا احتساب چاہتی ہے ۔ جو انصاف کو اپنا دین ، دھرم اور سیاسی منشور سمجھتی ہے ۔ جو ہر شہری کو عزت دلانے کا دعویٰ کرتی ہے ۔ اب پتہ چلا کہ جو صاحب اقتدار ہوں انکے لوگوں کو اختیار مل جاتا ہے کہ کسی کی بھی سر عام درگت بنا سکیں اور تھوڑا بہت منہ بند کرنے کا خیرات کر دیں ۔ کیونکہ پھر بھی ووٹ لینے ہیں ۔ مجھے اپنی غلطی کا شدت سے احساس اسوقت ہوا ، جب پارٹی کے بیشمار حواریوں نے مجھے میری کم علمی اور حماقت پر " شرم " بھی دلائی اور یہ بھی بتایا کہ پاکستان میں ہر پارٹی کے عہدیدار تو یہ کچھ کرتے ہی رہتے ہیں ۔ پہلے تو قتل بھی کیا کرتے تھے ۔ اب تو بے عزتی کے بعد مضروب کے گھر جا کے معافی مانگنے کی نئی روایت ، ہم نے ہی کی ہے ۔ اب تو جرم ، جرم نہیں رہا ۔ اس پر واویلا کیوں ۔ میرا دل کر رہا تھا کہ ایک اور جسارت کر ڈالوں کہ پوچھ لوں ، جناب دانشورو ! یہ بھی بتا دو کہ مدینہ کی ریاست میں یہ اصول رائج تھے ؟ یا ایسے غنڈوں کو عہدوں سے ہٹا دیا جاتا تھا ؟؟ یہ بھی پوچھ لوں کہ اس مزاج کے عہدیدار کے بغیر آپ کی پارٹی کے کام رک جائیں گے ؟ کیا کروں ، میری عمر میں سوچ پختہ ہو جاتی ہے ۔ اب زہر کو شہد نہیں کہہ سکتا ۔ مجبوری ہے ۔
آزاد ھاشمی
٢٦ اگست ٢٠١٨
Monday, 27 August 2018
غلطی ہوگئی
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
No comments:
Post a Comment