Tuesday, 28 August 2018

ہالینڈ ، سفارتی تعلقات اور انتہا پسندی

" ہالینڈ ، سفارتی تعلقات اور انتہا پسندی "
تحریک انصاف کے نمائندہ  بیرسٹر محمد علی گیلانی ، ایک پروگرام میں فرماتے ہیں کہ" ہالینڈ کے ساتھ سفارتی تعلقات توڑیں گے تو انتہا پسندی ہوگی ۔ ہمیں یہ معاملہ امن کے ساتھ حل کرنا ہوگا "
درست ہے کہ دنیا میں کچھ سفارتی قواعد و ضوابط ہیں ۔ سفارتخانے انہی قواعد و ضوابط کو ملحوظ رکھتے ہیں ۔ ایک ملک میں ہونے والی بیچینی کو اپنی حکومت تک پہنچانا انہی سفارتکاروں کے فرائض منصبی میں شامل ہے ۔ پوری دنیا میں یہ قاعدہ رائج ہے کہ کسی کے مذہبی عقائد کو مشتعل نہ کیا جائے ۔ کسی ملک کی آزادی میں مداخلت نہ کی جائے ۔ کسی ملک کے رائج قوانین کے باہر کوئی کام نہ کیا جائے ۔ کسی ملک کی سلامتی سے نہ کھیلا جائے ۔ کسی ملک کے داخلی معاملات میں ٹانگ نہ اڑائی جائے ۔ کسی ملک کی سلامتی کے راز نہ لئے جائیں ۔ جاسوسی نہ کی جائے وغیرہ وغیرہ ۔
بیرسٹر صاحب چونکہ قانون دان ہیں ، بین الاقوامی قانون بھی جانتے ہیں ۔ اور  یہ بھی جانتے ہیں کہ ان قوانین میں یہ " گورے " کس حد تک مداخلت سے باز آتے ہیں ۔ کیا کبھی کسی طاقتور ملک کے خلاف اقوام متحدہ نے ایکشن لیا کہ وہ دوسرے ممالک میں مداخلت کرنے سے روکا ہو ۔ کتنی مسلمان حکومتیں اوپر نیچے کی گئیں اور اس میں یورپ کا اور امریکہ کا کیا کردار رہا ۔ کیا ان سارے واقعات میں مسلمان نشانہ نہیں تھے ؟ کیا یہ اعتدال پسندی ہے ؟ اگر یہ اعتدال پسندی ہے تو اپنے عقیدے ، اپنے مذہب ، اپنے نبیؐ کی توہین ہونے پر ایک سفارتخانہ بند کر دینا انتہا پسندی کیسے ہوگئی ۔ کیا انکو اجازت دے دیں کہ ہمارے دین کا جیسے چاہیں مذاق بناتے رہیں ۔ یہ تو ابتداء ہے اور مصالحانہ طریقہ ہے کہ سفیر کو واپس بھیج دیا جائے ۔ انتہا پسندی تو یہ ہوتی کہ ہم اپنے جائز مطالبے کی بجائے تشدد کی راہ اختیار کرتے ۔ جو ہمارے ایمانی جذبات کے تحت جائز ہے اور جہاد ہے ۔ خاکے شائع ہونا شروع ہو چکے ہیں اور ہم ابھی تک یہ فیصلہ نہیں کر پائے کہ ہمیں حکومتی لیول پر کیا کرنا ہے ۔ الٹا قانون پڑھایا جائے گا اور اخلاق سمجھایا جائے گا تو اختلافات ہونگے ۔ بیرسٹر صاحب نے انگریز کا سارا قانون پڑھ لیا اگر مذہب کی الف بے بھی پڑھ لی ہوتی تو اسے بین الاقوامی فورم پر لا چکے ہوتے اور حکومت کو سفارتخانے کو بند کرنے کی رائے دیتے ۔ اگر پڑھ لیا ہوتا کہ اگر کوئی ہمارے دین کی توہین کرے گا تو جہاد واجب ہو جائے گا ۔ جہاد زبان سے روکنا ، ہاتھ سے روکنا اور پھر طاقت سے روکنا ہے ۔ یہ تیسری صورت کو لوگ انتہا پسندی کہتے ہیں اور ہمارا دین اسے ایمان کا اعلیٰ درجہ قرار دیتا ہے ۔ بیرسٹر صاحب سے گذارش ہے کہ اپنے نام کی لاج رکھ لیں ۔ اور قوم کو قانون نہ پڑھائیں ۔ اپنے ایمان کی مضبوطی کا ثبوت دیتے ہوئے سفارت کار کو بتائیں کہ بین الاقوامی قانون کے تحت اسکی حکومت کو یہ اختیار نہیں جو وہ کر رہی ہے ۔  اسکے ردعمل  میں جو ہوگا اسکے ذمہ دار اسکے حکومتی اہلکار ہونگے ۔
آزاد ھاشمی
٢٧ اگست ٢٠١٨ 

No comments:

Post a Comment