Saturday, 1 September 2018

تہمت اور بہتان

" تہمت اور بہتان "
دین اسلام کا اعجاز ہے کہ  جس طرح یہ دین معاشرتی برائیوں کو ختم کرنے کی تعلیم دیتا ہے کوئی دوسرا نظام پیش نہیں کر سکا ۔ معاشرے کے حسن کو امن ، ہم آہنگی ، عزت نفس اور اخوت کے اعلیٰ معیار پر رکھنے کیلئے ہر اس برائی ، خرابی اور عیب کو ختم کرنے کی تعلیم دیتا ہے جو اس کے حسن کو بگاڑ سکتی ہو ۔ انفرادی اور اجتماعی حقوق کیطرف نہایت تاکید اور سختی کے ساتھ احکامات اس کی دلیل ہے ۔ ہم روزمرہ زندگی میں انسانی فطرت کے تحت بعض ایسے گناہوں اور عیوب کا حصہ بن جاتے ہیں ، جسکی قطعی اجازت نہیں ہوتی ۔ ان میں سے ایک " بہتان اور تہمت" ہے ۔
قرآن مجیدمیں تہمت کے لیے رمی کا لفظ اور حدیث میں قذف کا لفظ استعمال ہوا ہے۔  تہمت کے معنی یہ ہیں کہ انسان کسی کی طرف ایسے عیب کی نسبت دے جو اس کے اندر نہ پائے جاتے ہوں۔  درحقیقت تہمت و بہتان،  جھوٹ کی بدترین قسموں میں سے ہے اور اگر یہی بہتان ، انسان کی عدم موجودگی میں اس پر لگایا جا‏ئے تو وہ غیبت شمار ہوگی اور در اصل اس نے دو گناہ انجام دیئے ہیں۔  اسلئے اسے گناہ کبیرہ میں شامل کیا گیا ہے ۔ تہمت معاشرے کی سلامتی کونقصان  ، سماجی انصاف کو ختم  ، حق کو باطل اورباطل کو حق بناکر پیش کرتی ہے ،  انسان کو بغیر کسی جرم کے مجرم بناکر اس کی عزت و آبرو کو خاک میں ملادیتی ہے ۔ اگر معاشرے میں تہمت کا رواج عام ہوجائے اور عوام تہمت کو قبول کرکے اس پر یقین کرلیں تو حق  باطل کے لباس میں اور باطل حق کے لباس میں نظر آئے گا۔ وہ معاشرہ ، جس میں تہمت کا رواج عام ہوگا ، اس میں حسن ظن ختم ہو جاتا ہے اور  لوگوں کا ایک دوسرے سے اعتماد اٹھ جاتا ہے ۔  اور معاشرہ تباہی کے دہانے پر پہنچ جائے گا یعنی پھر ہر شخص کے اندر یہ جرات پیدا ہوجائے گی کہ وہ جس کے خلاف ، جو بھی چاہے گا زبان پر لائے گا اور اس پر جھوٹ ، بہتان اور الزام لگا دے گا۔
حکم ہے کہ
‘‘جس نے کسی مومن کو کفر کی تہمت لگائی یہ ایسا ہی ہے جیسے اس نے اس کو قتل کر دیا’‘
زندگی کے معمول میں ، بہتان اور تہمت کا جس طرح استعمال شروع ہے ، کچھ بعید نہیں کہ برائی معاشرے کے امن کو فساد کی آگ میں لپیٹ دے ۔ ایسا کیوں ہے ؟  ہم نے تہمت اور بہتان کو یوں اپنی زندگیوں میں کیوں شامل کیا ؟ اسکی ایک وجہ تو یہ ہے کہ ہم قرآن اور اسوہ حسنہ سے بہت دور نکل گئے ہیں ۔ دوسری وجہ یہ کہ طاغوت کی سوچ نے ہماری اپنی سوچ کو زیر کر لیا ہے ۔ علوم زندگی میں علوم سیاست  ، ہر علم پر حاوی ہے۔کیونکہ یہ علم اقتدار اور طاقت تک لے جاتا ہے ۔ اس میں تہمت ، بہتان ، غیبت اور جھوٹ معمول ہے ۔
آزاد ھاشمی
2ستمبر ٢٠١٨

No comments:

Post a Comment